بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 242 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 242

کے بر خلاف، آنحضرت الله لم کی عصمت کے برخلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اُس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا۔گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے۔وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔“ ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 472،471 ایڈیشن 1984ء) حضرت عائشہ کی عمر کے مسئلہ کا جب ہم ایک دوسرے زاویہ سے جائزہ لیتے ہیں تو تاریخ و سیرت کی کتب میں ہمیں یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی چاروں اولاد ( حضرت عبد اللہ ، حضرت اسماء، حضرت عبد الرحمن اور حضرت عائشہ ) حضور الم کی بعثت سے قبل پیدا ہو چکے تھے اور سیرت نگاروں کی مرتب کردہ ابتدائی مسلمانوں کی فہرست میں حضرت عائشہ کا نام بھی شامل ہے، اگر حضرت عائشہ کی پیدائش نبوت کے پانچویں سال میں ہوئی تھی تو آپ کا نام ابتدائی مسلمانوں کی فہرست میں کیسے شامل ہو گیا؟ مؤرخین نے لکھا ہے کہ حضرت اسماء حضرت عائشہ سے دس سال بڑی تھیں اور ہجرت کے وقت حضرت اسماء کی عمر 27 سال تھی۔اس حساب سے بھی حضرت عائشہ کا سن پیدائش 4 قبل نبوت بنتا ہے۔اور اگر آپ کا نکاح ہجرت سے تین سال قبل ہوا تھا تو اس وقت آپ کی عمر 14 سال بنتی ہے۔غزوہ احد جو کہ 2 ہجری میں ہوئی اس کے بارہ میں صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عائشہ بنت ابی بکر اور حضرت اُم سلیم پانی کی مشکیں اپنی پیٹھوں پر لاد کر لاتیں اور لوگوں کو پانی پلاتی تھیں۔اگر حضرت عائشہ کی عمر اتنی ہی چھوٹی تھی کہ وہ ایک کم سن بچی تھیں تو وہ اپنی پیٹھ پر پانی سے بھری مشکیں لاد کر کس طرح دوڑ دوڑ کر میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلانے کی ڈیوٹی سر انجام دے سکتی ہیں۔پس اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ 2 ہجری میں آپ کی عمر اتنی بہر حال تھی کہ آپ میدان جنگ میں اس قسم کا بھاری کام کر سکتی تھیں۔تاریخ کی کتب میں یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ حضرت عائشہ کی آنحضور ام سے شادی سے پہلے جبیر بن مطعم سے منگنی ہوئی تھی۔اس وقت میں آپ کی منگنی کا ہو نا بتاتا ہے کہ آپ کی عمر چھ سال نہیں تھی، خصوصاً اس لئے بھی کہ جب حضور الم کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق 242