بنیادی مسائل کے جوابات — Page 243
کو حضرت عائشہ کے لئے رشتہ کا پیغام ملا تو حضرت ابو بکر صدیق نے جبیر بن مطعم سے حضرت عائشہ کی رخصتی لینے کے بارہ میں دریافت کیا۔اس طرف سے انکار پر وہ رشتہ ختم ہو گیا اور پھر حضور ام سے حضرت عائشہ کا نکاح عمل میں آیا۔حضرت ابو بکر صدیق کا جبیر بن مطعم سے رخصتی کا کہنا ثابت کرتا ہے کہ حضرت عائشہ کی عمر اس وقت چھ سال ہر گز نہیں تھی بلکہ آپ اس وقت بھی شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنے محققانہ انداز کے مطابق حضرت عائشہ کی عمر کے بارہ میں مروی روایات کا بنظر غور جائزہ لینے کے بعد جو نتیجہ نکالا ہے اس کے مطابق آپ نے شادی کے وقت حضرت عائشہ کی عمر تیرہ چودہ سال قرار دی ہے اور یہی درست عمر ہے۔اس لحاظ سے آنحضور اتم کی وفات کے وقت حضرت عائشہ کی عمر اکیس بائیس سال بنتی ہے جو دینی علم کے حصول کی تکمیل اور آگے لوگوں کو تعلیم دینے کی بہترین عمر بنتی ہے۔اس زمانہ کے حکم و عدل سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عائشہ کی آنحضور ای لیلی کے ساتھ شادی کے وقت آپ کی نو برس عمر کے متعلق روایات کو کلیۂ رڈ فرمایا ہے۔چنانچہ ایک معاند اسلام پادری فتح مسیح کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: آپ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کر کے نو برس کی رسم شادی کا ذکر لکھا ہے۔اوّل تو نو برس کا ذکر آنحضرت ام کی زبان سے ثابت نہیں اور نہ اس میں کوئی وحی ہوئی اور نہ اخبار متواترہ سے ثابت ہوا کہ ضرور نو برس ہی تھے۔صرف ایک راوی سے منقول ہے۔“ (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 377) اسی طرح ایک اور جگہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”حضرت عائشہ گا نو سالہ ہونا تو صرف بے سر و پا اقوال میں آیا ہے۔کسی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں۔“ آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 64) پس خلاصہ کلام یہ کہ ایسی تمام روایات جن میں شادی کے وقت حضرت عائشہ کی عمر نو سال 243