بنیادی مسائل کے جوابات — Page 233
حدیث قلين سوال: ایک دوست نے حضور انور کی خدمت اقدس میں حدیث ثقلین کی ثقاہت کے بارہ میں کچھ روشنی ڈالنے کی درخواست کی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29 جون 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل بصیرت افروز جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اس بارہ میں دو قسم کی روایات کتب احادیث میں موجود ہیں۔ایک میں كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةٌ نبيه کے الفاظ آئے ہیں اور دوسری میں كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي کے الفاظ آئے ہیں۔كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّـهِ والی روایات ثقہ اور مستند ہیں۔قرآن کریم دراصل خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور حضور ا کی سنت اس کلام کی عملی تفسیر ہے، جو دونوں لازم و ملزوم اور ہر قسم کے ظن سے پاک ہیں۔اور یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کو مضبوطی سے تھامنے (یعنی ان کے احکامات پر عمل کرنے) والے کبھی گمراہ نہیں ہو سکتے۔حضرت انس بن مالک نے اپنی موطا میں اسے درج کیا ہے۔جبکہ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي والی روایات کو اگر چہ صحاح ستہ میں سے بعض کتب نے روایت کیا ہے لیکن امام بخاری نے اسے اپنی صحیح میں درج نہیں کیا۔علمائے حدیث نے ان روایات پر روایتیاً اور درایتاً بہت کلام کیا ہے۔نیز اسماء الرجال کی کتب میں ان روایات کے راویوں پر بہت زیادہ جرح کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ ان کی اسناد میں ضرور کوئی نہ کوئی ایسا راوی ہے جس کی ہمدردیاں اہل تشیع کے ساتھ تھیں۔ان روایات کے ایک راوی حضرت زید بن ارقم کا اپنا بیان قابل غور ہے کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور بہت کچھ جو میں نے حضور ای علم سے سنا تھا بھول چکا ہوں۔ان روایات کے ایک راوی حضرت جابر بن عبد اللہ ہیں۔ان سے مروی ایک مختصر روایت جو صحیح مسلم اور سنن ترمذی نے درج کی ہے اس میں کتاب اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي کے الفاظ بيان ہوئے ہیں لیکن حضرت جابر بن عبد اللہ سے یہی روایت جب تفصیل کے ساتھ بیع مسلم ، سنن ابن ماجہ نے درج کی تو ان میں کہیں دَعِتْرَتِي أَهْلَ بَنيتي کے الفاظ درج نہیں کئے بلکہ صرف 233