بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 232

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: ”جب انسان سے کوئی فعل صادر ہو تا ہے تو اسی کے مطابق خدا بھی اپنی طرف سے ایک فعل صادر کرتا ہے مثلاً انسان جس وقت اپنی کو ٹھڑی کے تمام دروازوں کو بند کر دے تو انسان کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ وہ اس کو ٹھڑی میں اندھیرا پیدا کر دے گا۔کیونکہ جو امور خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں ہمارے کاموں کے لئے بطور ایک نتیجہ لازمی کے مقدر ہو چکے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کے فعل ہیں۔وجہ یہ کہ وہی علت العلل ہے۔ایسا ہی اگر مثلاً کوئی شخص زہر قاتل کھالے تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل صادر ہو گا کہ اسے ہلاک کر دے گا۔ایسا ہی اگر کوئی ایسا بیجا فعل کرے جو کسی متعدی بیماری کا موجب ہو تو اس کے اس فعل کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہو گا کہ وہ متعدی بیماری اس کو پکڑلے گی۔پس جس طرح ہماری دنیوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا ہے۔الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت:70) فَلَمَّا زَاغُوْا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ (الصف:6) یعنی جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل کے لئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہو گا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھاویں گے اور جن لوگوں نے کبھی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمارا فعل اس کی نسبت یہ ہو گا کہ ہم ان کے دلوں کو حج کر دیں گے۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 389،388) (قسط نمبر 37، الفضل انٹر نیشنل 08 جولائی 2022ء صفحہ 10) 232