بنیادی مسائل کے جوابات — Page 231
حکم اور ارادہ اور مشیت کے اس عالم کون اور فساد میں کوئی مؤثر نہیں۔“ (نورالحق، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 15) یعنی دنیا کی ہر چیز کی اچھی اور بُری تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی ہیں اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت کے بغیر اپنے اچھے یا برے اثرات دوسرے پر نہیں ڈال سکتی۔پس حضور علیہ السلام کی بیان فرمودہ اس تشریح کے مطابق مذکورہ بالا حدیث کے اگلے حصہ کا بھی یہی مطلب بنے گا کہ عورت ہو یا انسان کی سواری ہو یا اس کا گھر ہو، ان تمام چیزوں کے اچھے یا بُرے اثرات خدا تعالیٰ کے اذن سے ہی دوسرے شخص پر پڑ سکتے ہیں۔اور بالفاظ دیگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان اپنی بیوی سے یا اپنی سواری سے یا اپنے گھر سے خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہی فائدہ یا نقصان اٹھاتا ہے۔البتہ اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ کسی چیز کے اچھے یا برے اثرات پیدا ہونے میں انسان کا کچھ بھی دخل نہیں اور جو کچھ بھی ہوتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔کیونکہ قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں اس مضمون کو مختلف پیرایوں میں خوب کھول کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ انسان کے جیسے اعمال ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے مطابق ان کے نتائج بھی مرتب فرماتا ہے۔چنانچہ سورۃ التغابن میں مومنوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ازواج میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہو۔(سورة التغابن: (16،15) اور سورۃ النور میں فرمایا کہ ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد نا پاک عورتوں کے لئے ہیں۔اور پاکیزہ عور تیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔(سورۃ النور :27) پھر ایک حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ صالحہ بیوی، اچھا گھر اور اچھی سواری انسان کے لئے سعادت کا موجب ہے اور بد عورت، بر اگھر اور بُری سواری انسان کے لئے بد بختی کا باعث ہیں۔(مسند احمد بن حنبل مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشِّرِينَ بِالْجَنَّةِ مُسْنَدُ أَبِي إِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، حدیث نمبر 1368) 231