بنیادی مسائل کے جوابات — Page 206
چالیس کا عدد سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں استفسار کیا کہ کیا ں استفسار کیا کہ مذہب کی دنیا میں چالیس کے عدد کی کوئی خاص اہمیت ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 جنوری 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: قرآن و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جسمانی پختگی اور روحانی تحمیل کے ساتھ چالیس کے عدد کو ایک خاص مناسبت ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ انسان کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: حَتَّى إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعِيْنَ سَنَةٌ یعنی جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ وَعَدْنَا مُوسَى ثَلْثِيْنَ لَيْلَةً وَ أَتْمَمْنْهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيْقَاتُ رَبَّةٍ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ممل یعنی ہم نے موسیٰ کے ساتھ تھیں راتوں کا وعدہ کیا اور انہیں دس ( مزید راتوں) کے ساتھ کیا۔پس اُس کے رب کی مقررہ مدت چالیس راتوں میں تکمیل کو پہنچی۔ہمارے آقا و مولا حضرت اقدس محمد مصطفی تم کو چالیس سال کی عمر میں نبوت کے مقام پر سرفراز فرمایا گیا۔حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ انسان اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی صورت میں ، چالیس دن تک علقہ کی صورت میں اور چالیس دن تک مضغہ کی صورت میں رہتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیج کر اس میں روح پھونکتا ہے۔اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص چالیس دن تک باجماعت نماز اس طرح پڑھے کہ تکبیر تحریمہ میں شامل ہو تو اس کے لئے آگ اور نفاق سے براءت لکھ دی جاتی ہے۔206