بنیادی مسائل کے جوابات — Page 193
کہا کہ جاؤ اور بتاؤ اس کے متعلق کیا فیصلہ ہے۔دونوں فرشتے آئے ایک دوزخ میں لے جانے والا اور ایک جنت میں لے جانے والا۔اب دونوں لے جانے والوں میں جھگڑا ہو گیا۔جو دوزخ میں لے جانے والا فرشتہ تھا وہ کہتا تھا کہ اس نے سو قتل کئے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ سے کہہ کر اس کو دوزخ میں ڈلوا دینا ہے۔جو جنت میں لے جانے والا تھا وہ کہتا تھا کہ نہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے کہ جا کر اس کا راستہ ناپو۔اس نے کہا اچھا۔پھر فیصلہ یہ ہوا کہ ہم فاصلہ ناپتے ہیں اگر تو یہ اس شہر کے قریب ہوا جہاں یہ اپنے گناہ بخشوانے کے لئے جا رہا تھا تو یہ جنت میں چلا جائے گا اور اگر یہ اس شہر کے قریب ہوا جہاں سے یہ قتل کر کے نکل رہا تھا تو دوزخ میں جائے گا۔پھر جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے وہ فاصلہ کم کر دیا اور جب فاصلہ نا پا گیا تو اس شہر کے وہ زیادہ قریب ہو گیا جہاں وہ گناہ بخشوانے کے لئے جا رہا تھا۔اور صرف ایک بالشت کا فاصلہ تھا، ایک ہاتھ کا، (اس موقعہ پر حضور انور نے اپنے ہاتھ کی بالشت بنا کر اطفال کو دکھاتے ہوئے فرمایا) صرف اتنا فاصلہ اس طرف کم تھا اور دوسری طرف زیادہ تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا اور جنت میں لے گیا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے۔اور ایک دوسری روایت بھی ہے کہ ایک شخص نے کسی کو کہا کہ کیا میں بخشا جاؤں گا؟ اس نے کہا نہیں، تم بہت گناہ گار آدمی ہو، تم نہیں بخشے جاسکتے۔تو اللہ تعالیٰ نے وہ جو نیک آدمی تھا، بڑی نمازیں پڑھنے والا تھا، اپنے آپ کو بڑا نیک سمجھتا تھا، اس کو کہا کہ تم کون ہوتے ہو فیصلہ کرنے والے کہ کون جنت میں جائے گا اور کون دوزخ میں جائے گا۔پھر قسمت سے دونوں ایک ہی وقت میں اکٹھے مر گئے۔اور پھر جب اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے اس نیک آدمی کو جس نے گناہ گار آدمی کو کہا تھا کہ تم دوزخ میں جاؤ گے اور میں جنت میں جانے والا ہوں، میری گارنٹی ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا تمہاری گارنٹی کہاں سے آگئی ؟ چلو تمہیں میں دوزخ میں ڈالتا ہوں اور جس کو تم کہہ رہے تھے کہ دوزخ میں جاؤ گے اور جنت میں نہیں جاؤ گے اس کو میں جنت میں ڈالتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت تو یہ ہے۔اس لئے ہمارا کام یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کا علم بھی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز پہ قادر بھی ہے۔اللہ تعالیٰ رحمن بھی ہے، اس کی رحمانیت بھی ہے۔اور اللہ تعالیٰ 193