بنیادی مسائل کے جوابات — Page 188
نعمت عطا فرمائی ہے کہ اولین و آخرین میں سے کسی کو بھی وہ نعمت عطا نہیں فرمائی۔پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا۔وہ آدمی کہے گا کہ اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب کر دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کے پھلوں سے پانی پیوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم اگر میں تجھے یہ دے دوں تو پھر تو اس کے علاوہ بھی مجھ سے مانگے گا۔وہ عرض کرے گا کہ نہیں اے میرے پروردگار۔چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہ مانگنے کا معاہدہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائے گا کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر اسے صبر نہ ہو گا۔پس اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کے پھلوں کے پانی سے پیاس بجھائے گا۔پھر اس کے لئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو پہلے درخت سے نہیں زیادہ خوبصورت ہو گا۔وہ آدمی عرض کرے گا اے میرے پروردگار مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پیوں، اور اس کے بعد میں اور کوئی سوال نہیں کروں گا۔اللہ فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اور کوئی سوال نہیں کرے گا اور اب اگر تجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیا تو پھر تو اور سوال کرے گا۔اللہ تعالیٰ پھر اس سے اس بات کا وعدہ لے گا کہ وہ اور کوئی سوال نہیں کرے گا، تاہم اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ معذور ہو گا کیونکہ وہ ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہ کر سکے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب کر دے گا۔وہ اس کے سایہ میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پیئے گا۔پھر اسے جنت کے دروازے پر ایک درخت دکھایا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا۔پس وہ آدمی کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں آرام کروں اور پھر اس کا پانی پیوں اور اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا۔پھر اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائے گا اے ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے بعد اور کوئی سوال نہیں کرے گا۔وہ عرض کرے گا ہاں اے میرے پروردگار اب میں اس کے بعد اس کے علاوہ اور ہ اور کوئی سوال نہیں کروں گا اللہ اسے معذور سمجھے گا کیونکہ وہ جنت کی ایسی ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ نہیں کر سکے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔جب وہ اس درخت 188