بنیادی مسائل کے جوابات — Page 186
ان بچوں پر رحم کرتے ہوئے ان کے والدین کو بھی ان بچوں کے ساتھ جنت میں داخل فرمادے گا۔(صحيح بخاري كتاب الجنائز باب فَضْلِ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدٌ فَاحْتَسَبَ) علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنت میں مختلف مدارج پانے والے جنتیوں کی مستقل رہائش کا الگ الگ ہونا اور بات ہے اور ان مختلف مدارج والوں کا آپس میں ملنا جلنا الگ چیز ہے، جس کے بارہ میں قرآن و حدیث میں کسی قسم کی کوئی روک ٹوک بیان نہیں ہوئی بلکہ قرآن کریم نے تو جنتیوں کے متعلق ایک حقیقت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ : لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَاءُونَ یعنی ان کے لئے ان میں وہی کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے۔پھر فرمایا: لَهُمْ مَّا يَشَاءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ (النحل:32) (الزمر:35) یعنی وہ جو کچھ چاہیں گے ان کو اپنے رب کے ہاں مل جائے گا۔پھر فرمایا: وَلَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيَ أَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِيْهَا مَا تَدَّعُوْنَ۔(حم سجدہ:32) یعنی اس (جنت) میں جو کچھ تمہارے جی چاہیں گے تم کو ملے گا اور جو کچھ تم مانگو گے وہ بھی تم کو اس میں ملے گا۔پس ان آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مختلف درجات رکھنے والے جنتی اگر اپنے کسی پیارے سے ملنا چاہیں گے تو ان کی یہ خواہش بھی جنت میں پوری ہو گی۔4۔ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو اس کی کسی غلطی پر سزا دی جائے تو وہ سزا دائمی نہیں ہوتی بلکہ ایک وقت پر وہ سزا بھی ختم ہو جاتی ہے۔جب ہم انسانوں اور ہمارے بنائے ہوئے قوانین کا یہ حال ہے تو خدا تعالیٰ جو تمام صفاتِ حسنہ اور محامدہ طیبہ کا جامع ، سب سے بر تر اور تقدس کے اعلیٰ ترین مقام پر جلوہ گر ہے اور جس کا اپنی ذات کے متعلق وعدہ ہے کہ اِن 186