بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 185 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 185

جنت سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ : 1 اللہ تعالیٰ کو طاق نمبر کیوں پسند ہے؟ 2۔اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے قرآن مجید میں مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے ؟ 3۔کیا یہ بات درست ہے کہ جنت میں اعلیٰ مقام والے لوگ اپنے سے کم مقام والوں کو تو مل سکیں گے، لیکن کم درجہ والے اعلیٰ درجہ والوں سے نہیں مل سکیں گے؟ 4۔ایک دہر یہ کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بالآخر انسانوں کو معاف کر کے جنت میں لے جانا ہے؟ جواب:3۔قرآن کریم میں اہل جنت اور اہل جہنم کا جہاں ذکر کیا گیا ہے ، وہاں ان دونوں کے درمیان ایک روک کے حائل ہونے کا ذکر بھی کیا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنتی اور جہنمی ایک دوسرے سے نہیں مل سکیں گے لیکن اسی جگہ پر ان کے ایک دوسرے کو دیکھ سکتے کا ذکر آیا ہے۔جس کا بظاہر یہ مقصد نظر آتا ہے کہ تا جنتی جہنمیوں کو دیکھ کر اپنے ربّ کے احسانات کے شکر گزار ہوں جس نے انہیں راہِ راست پر قائم رکھا اور جنت کی ان نعمتوں کا وارث بنایا۔اور جہنمی جنتیوں کو ملنے والی نعماء کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ کر دنیا میں کئے گئے اپنے بُرے اعمال پر کف افسوس ملیں۔چنانچہ سورۃ الاعراف آیت 41 تا 51 میں اِس مضمون کو خوب کھول کر بیان کیا گیا ہے۔لیکن جہاں تک مختلف درجات والے جنتیوں کے آپس میں ملنے جلنے کا معاملہ قرآن و حدیث میں جنت کے مختلف مقام اور مدارج کا تو ذکر ہوا ہے لیکن جنت کے ان مختلف مقام اور مدارج میں رہنے والوں کے آپس میں ملنے جلنے میں کسی روک ٹوک کا کوئی ذکر نہیں آیا۔بلکہ اس کے بر عکس اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے معاملہ میں ان کے پیچھے چلی ہے ہم اعلیٰ جنتوں میں ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ جمع کر دیں گے اور ان کے باپ دادوں کے عملوں میں بھی کوئی کمی نہیں کریں گے۔(سورۃ الطور :22) تو ہے اسی طرح احادیث میں بھی آیا ہے کہ جن لوگوں کے تین چھوٹے بچے فوت ہو جائیں اللہ تعالیٰ 185