بنیادی مسائل کے جوابات — Page 172
ساری جگہوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔بڑا وسیع لفظ ہے۔آنحضرت م سے بھی پہاڑی علاقہ کے کچھ لوگ، جفاکش قوموں کے نمائندے ملنے کے لئے آئے اور آپ نے ان کے ساتھ ، وہ چاہتے تھے کہ علیحدہ گفتگو ہو۔چنانچہ حضور اکرم ا ہم نے باہر ان سے وقت مقرر کیا جہاں ڈیرا ڈالا تھا، وہاں ان سے ملنے گئے اور گفتگو ہوئی۔قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے اور سورۃ جن میں اس کا ذکر آتا ہے۔اور اس کے بعد وہ ایمان بھی لے آئے۔اور ساتھ ہی احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ بعد میں جب صحابہ وہاں گئے تو دیکھا کہ وہاں ان کے چولہوں کے نشان تھے جہاں کھانا پکایا جاتا تھا۔تو جنوں کی خوراک اگر وہ جن تھے جو مولوی سمجھتے ہیں تو وہ تو آگ پہ کھانا نہیں پکایا کرتے ان کی تو خوراک ہی اور چیزیں ہیں وہ تو آتشیں مادہ ہے یا ہوائی سا وجو د ہے۔تو صاف پتہ چلا کہ جو جن رسول اکرم الم سے ملنے آئے تھے وہ انسانوں میں سے تھے۔پھر انبیاء کا تصور وہاں پایا جاتا ہے وہ کہتے ہیں ہم لوگ بڑے جاہل ہوتے تھے۔ہم سمجھتے تھے کہ خدا اب کبھی کسی نبی کو نہیں بھیجے گا۔لیکن دیکھ لو پھر نبی آگیا۔تو انبیاء تو انسانوں کے لئے آتے ہیں۔قرآن کریم میں رسول کریم م کو ہمیشہ انسانوں کو مخاطب کر کے پیغام پہنچانے کے لئے فرمایا ہے، جنوں کو مخاطب کر کے کہیں نہیں فرمایا۔تو اس لئے وہ جو ایمان لائے ذکر کرتے ہیں کہ ہم نبیوں کا انکار کر گئے تھے کہ آئندہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ انسانوں میں سے کچھ لوگ تھے۔تو قرآن کریم نے ان معنوں میں، ان سے ملتے جلتے معنوں میں جو میں نے بیان کئے ہیں کئی جگہ جنوں کا ذکر کیا ہے۔لیکن ایسے جن کا ذکر نہیں کیا جو مولوی صاحب کو لوگوں کے مرغے چرا کے لا کے دے۔یا آپ کی خواہش ہو کہ فلاں آدمی کو پکڑ کے لے آئے تو جن رات ورات پکڑ کے لے آئے۔ایسا کوئی ذکر قرآن کریم میں نہیں ملتا یار سول کریم ایم کی 172