بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 152

Piercings جسم کے مختلف حصوں پر Piercings کروانا سوال: جرمنی سے ایک خاتون نے لڑکوں اور لڑکیوں کا اپنے جسموں کے مختلف حصوں پر P کر وانے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے مسئلہ دریافت کیا ہے۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 23 اگست 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اسلام نے چیزوں کی حلت و حرمت کے احکامات کے علاوہ بعض اشیاء کے طیب و غیر طیب ہونے اور بعض کاموں کے لغو ہونے کے بارہ میں بھی تعلیمات دی ہیں۔زیور پہننے کے لئے لڑکیوں کے کان اور ناک کی حد تک Piercings کروانے کا رواج شروع سے چلا آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی قباحت اور ممانعت نہیں پائی جاتی۔لیکن لڑکوں کے لئے تو کان اور ناک وغیرہ چھدوانا بھی ناپسندیدہ اور لغو کام ہے۔ہر کام کی ایک حد ہوتی ہے، جب اس حد سے تجاویز کیا جائے تو ایک جائز کام بھی بعض اوقات ناجائز یا لغو کے زمرہ میں شامل ہو جاتا ہے۔جس میں پڑنے سے ایک مومن کو منع کیا گیا ہے۔(سورۃ المومنون:4) نپلز (Nipples) اور جسم کے ایسے حصوں پر Piercings کروانا جنہیں اسلام نے پردہ میں رکھنے کا حکم دیا ہے ان پر ایسا کام کروانا تو ویسے ہی بے حیائی اور خلاف شریعت فعل ہے۔باقی زبان پر اور ہو نٹوں کے اندر اور باہر Piercings کروانا کئی قسم کی بیماریوں اور انفیکشن کا باعث ہو سکتا ہے۔اس لئے میرے نزدیک تو لڑکیوں کے لئے بھی پردہ میں رہتے ہوئے صرف ناک اور کان میں زیور کے استعمال کے لئے Piercings کروانے کی اجازت ہے اور اس سے زیادہ ان کے لئے بھی یہ کام لغو اور ناجائز کے زمرہ میں آئے گا۔( قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 152