بنیادی مسائل کے جوابات — Page 153
جسمانی وضع قطع میں مصنوعی تبدیلی سوال: عورتوں کے اپنے چہرہ پر پلنگ (Plucking) اور تھریڈنگ (Threading) وغیرہ کرنے نیز جسم پر تصاویر گندھوانے کے بارہ میں سوال پیش ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 02 فروری 2019ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: احادیث میں مومن عورتوں کو اپنے جسموں پر مختلف تصاویر گندھوانے، چہرے کے بال نوچنے ، خوبصورتی اور جو ان نظر آنے کے لئے سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے، منصوعی بالوں کے لگانے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے وغیرہ امور سے منع فرمایا گیا ہے، اس کی مختلف وجوہات ہیں۔اگر ان باتوں سے انسان کے جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں رکھی ہے وہ ختم ہو جائے۔یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس سے منع فرمایا گیا۔پھر احادیث میں جہاں ان امور سے منع کیا گیا وہاں حضور لم نے یہ بھی اندار فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کئے۔پس اس سے استدلال ہو سکتا ہے کہ یہود جن کے ہاں زنا کاری پھیل چکی تھی اور فحاشی کے اڈے قائم ہو گئے تھے ، اس کام میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہوں، اس لئے رسول خد اللیم نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس سے منع فرمایا۔علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ حضور الم کا یہ ارشاد اُس وقت کے حالات کے پیش نظر وقتی ہو ، بالکل اسی طرح جس طرح حضور لم نے ایک علاقہ کے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کو اس علاقہ میں شراب بنانے کے لئے استعمال ہونے والے برتنوں کے عام استعمال سے منع فرما دیا تھا۔لیکن جب ان لوگوں میں اسلامی تعلیم اچھی طرح رچ بس گئی تو پھر حضور الم نے انہیں ان برتنوں کے عام استعمال کی اجازت دیدی۔153