بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 151 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 151

یعنی میں نے حضور الم کو عورتوں کو موچنے سے بال نوچنے، دانتوں کو باریک کرنے ، مصنوعی بال لگوانے اور جسم کو گودنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ہاں کوئی بیماری ہو تو اس کی اجازت ہے۔اسلام نے اعمال کا دار مدار نیتوں پر رکھا ہے۔لہذا اس زمانہ میں پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت جائز طریق پر اور جائز مقصد کی خاطر ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر ان افعال کے نتیجہ میں کسی برائی کی طرف میلان پیدا ہویا کسی مشرکانہ رسم کا اظہار ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہو، مثلاً اس زمانہ میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ (Waxing) وغیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اور دوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تو پھر یہ کام حضور ﷺ کے اسی انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔اور اس کی اجازت نہیں ہے۔پھر اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے فتنہ اور فساد کو قتل سے بھی بڑا گناہ قرار دے کر فساد کو روکنے کا حکم دیا ہے۔اور بعض ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ رشتے اس لئے ختم کر دیئے گئے یا شادی کے بعد طلاقیں ہوئیں کہ مرد کو بعد میں پتہ چلا کہ عورت کے چہرے پر بال ہیں۔اگر چند بالوں کو صاف نہ کیا جائے یا کھنچوایا نہ جائے تو اس سے مزید گھروں کی بربادی ہو گی۔ناپسندیدگیوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔اور آنحضور الم کا اس حکم سے یہ مقصود بہر حال نہیں ہو سکتا کہ معاشرے میں ایسی صور تحال پیدا ہو کہ جس کے نتیجہ میں گھروں میں فساد پھیلے۔ایسے سخت الفاظ کہنے میں جو حکمت نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور یہ باتیں چونکہ دیوی دیوتاؤں وغیرہ کی خاطر اختیار کی جاتی تھیں یا ان کے نتیجہ میں فحاشی کو عام کیا جاتا تھا، اس لئے آپ نے سخت ترین الفاظ میں اس سے کراہت کا اظہار فرمایا ہے اور اس طرح مشرکانہ رسوم و عادات اور فحاشی کی بیخ کنی فرمائی ہے۔(نوٹ از مرتب: مذکورہ بالا جواب کے کچھ حصہ قبل ازیں بھی مختلف اقساط میں بعض سوالات کے جواب میں شائع ہو چکے ہیں۔لیکن یہاں پر مکمل اور یکجا صورت میں اس جواب کو جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مذکورہ بالا سوال کے جواب میں عطا فرمایا قارئین کے استفادہ کے لئے درج کیا جارہا ہے۔(قسط نمبر 36، الفضل انٹر نیشنل 17 جون 2022ء صفحہ 11) 151