بنیادی مسائل کے جوابات — Page 144
کسی اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں لیکن بہر حال وہ امر خارق عادت ہو گا جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے۔۔۔پس یہ پیشگوئی بلا شبہ اول درجہ کی خارق عادت امر کی خبر دیتی ہے۔اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی کچھ ایسے حوادث مختلف اسباب طبعیہ سے ظاہر ہوں جو ایسی تباہیوں کے موجب ہو جائیں جو خارقِ عادت ہوں۔پس اگر اس پیشگوئی کے کسی حصہ میں زلزلہ کا ذکر بھی نہ ہو تا تب بھی یہ عظیم الشان نشان تھا کیونکہ مقصود تو اس پیشگوئی میں ایک خارقِ عادت تباہی مکانوں اور جگہوں کی ہے جو بے مثل ہے۔زلزلہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 161) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور علیہ السلام کو بتائی جانے والی ان غیب کی خبروں کے عین مطابق دنیا دو عالمی جنگوں، طاعون کی وبا اور دنیا کے اکثر حصوں میں آنے والے غیر معمولی زلزلوں کی صورت میں چار نشانوں کے پورا ہونے کا ایک مرتبہ مشاہدہ کر چکی ہے، جن میں انسانی اور حیوانی جانوں، چرند پرند اور عمارتوں کا غیر معمولی نقصان ہوا۔اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو خاص طور پر پانچ نشانوں کے ظاہر ہونے کی خبر دی تھی۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ پانچواں نشان کس صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کسی غیر معمولی زلزلہ کی شکل میں یا کسی عالمی وبا کی صورت میں یا تیسری عالمی جنگ کے طور پر دنیا پر تباہی لے کر آتا ہے۔لیکن یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگر دنیا نے عقل نہ کی اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع نہ کیا تو جس طرح پہلے چار نشان پورے ہوئے ہیں، یہ پانچواں نشان بھی پورا ہو گا اور اس کے بعد جیسا کہ ان پیشگوئیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسلام کو انشاء اللہ غیر معمولی غلبہ نصیب ہو گا۔اسی مضمون کو حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے 1967ء کے دورہ کیورپ کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مذکورہ بالا پیشگوئی کی روشنی میں بیان فرمایا تھا، جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے۔چنانچہ حضور نے فرمایا: "حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اسلام کی صداقت کے ثبوت کے طور پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں نشانات دنیا کے سامنے پیش کئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر پانچ عظیم تباہیوں کے بارے 144