بنیادی مسائل کے جوابات — Page 143
بعض اُن میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدر موت ہو گی کہ خون کی نہریں چلیں گی۔اس موت سے پرند چرند بھی باہر نہیں ہوں گے اور زمین پر اس قدر سخت تباہی آئے گی کہ اس روز سے کہ انسان پیدا ہوا ایسی تباہی کبھی نہیں آئی ہو گی اور اکثر مقامات زیر و زبر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی آبادی نہ تھی اور اس کے ساتھ اور بھی آفات زمین اور آسمان میں ہولناک صورت میں پیدا ہوں گی۔۔۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم ان زلزلوں سے امن میں رہو گے یا تم اپنی تدبیروں سے اپنے تئیں بچا سکتے ہو ؟ ہر گز نہیں۔انسانی کاموں کا اُس دن خاتمہ ہو گا۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک اُن سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید اُن سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269،268) ان انذاری پیشگوئیوں میں زلزلہ کے الفاظ سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ آفات صرف زلزلہ کی صورت میں ہی دنیا پر نازل ہوں گی۔بلکہ ان سے مراد زلزلوں ہی کی طرح تباہی پھیلانے والی کوئی اور آفات بھی ہو سکتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کے کلام میں استعارات بھی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمُي فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمي (بنی اسرائیل:73) لہذا ممکن تھا کہ زلزلہ سے مراد اور کوئی عظیم الشان آفت ہوتی جو پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی۔مگر ظاہر عبارت بہ نسبت تاویل کے زیادہ حق رکھتی ہے۔پس دراصل اس پیشگوئی کا حلقہ وسیع تھا لیکن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کا منہ کالا کرنے کے لئے ظاہر الفاظ کی رُو سے بھی اس کو پورا کر دیا۔اور ممکن ہے کہ بعد اس کے بعض حصے اس پیشگوئی کے 143