بنیادی مسائل کے جوابات — Page 142
سوال: لندن سے ایک خاتون نے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک خطبہ جمعہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کی روشنی میں تیسری جنگ عظیم کے متعلق بیان تنبیہ کے حوالہ سے اس جنگ کے بارہ میں مزید شواہد دریافت کئے۔نیز لکھا کہ غیر از جماعت لوگ جنوں بھوتوں پر یقین رکھتے ہیں، انہیں جنوں کی حقیقیت کیسے سمجھائی جا سکتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 17 دسمبر 2021ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مختلف رؤیاء و کشوف اور الہامات کے ذریعہ دنیا پر آنے والی جن بڑی بڑی آفات اور زلزلوں کی خبر دی ہے ان میں پانچ ہولناک تباہیوں کا خاص طور پر ذکر ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: پانچ زلزلوں کے آنے کی نسبت خدا تعالیٰ کی پیشگوئی جس کے الفاظ یہ ہیں 'چمک دکھلاؤں گا تم کو اِس نشاں کی پنج بار۔اس وحی الہی کا یہ مطلب ہے کہ خدا فرماتا ہے کہ محض اس عاجز کی سچائی پر گواہی دینے کے لئے اور محض اس غرض سے کہ تالوگ سمجھ لیں کہ میں اس کی طرف سے ہوں پانچ دہشت ناک زلزلے ایک دوسرے کے بعد کچھ کچھ فاصلہ سے آئیں گے تا وہ میری سچائی کی گواہی دیں اور ہر ایک میں اُن میں سے ایک ایسی چمک ہو گی کہ اس کے دیکھنے سے خدا یاد آجائے گا اور دلوں پر ایک اُن کا ایک خوفناک اثر پڑے گا اور وہ اپنی قوت اور شدت اور نقصان رسانی میں غیر معمولی ہوں گے جن کے دیکھنے سے انسانوں کے ہوش جاتے رہیں گے۔“ (تجلیات الہیہ ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 395) ان آفات کی ہولناکی اور شدت بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیا کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور 142