بنیادی مسائل کے جوابات — Page 84
اتنی لمبی ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو بھی ڈھک دے۔ایک روایت میں ہے کہ جنگ اُحد کے موقعہ پر حضرت عائشہ اور حضرت ام سلیم اپنی تہ بند او پر اٹھا کر پانی کی مشکیں بھر بھر کر لا رہی تھیں اور مردوں کو پانی پلا رہی تھیں، راوی کہتے ہیں کہ اس حالت میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پردہ سے متعلق قرآنی آیات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ایماندار عورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مر دوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پر شہوت آوازیں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو پردہ میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے۔یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے پردہ میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 341-342) شرعی پردہ کو بیان کرتے ہوئے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: شرعی پردہ یہ ہے کہ چادر کو حلقہ کے طور پر کر کے اپنے سر کے بالوں کو کچھ حصہ پیشانی اور زنخدان کے ساتھ بالکل ڈھانک لیں اور ہر ایک زینت کا مقام ڈھانک لیں۔مثلاً منہ پر ارد گرد اس طرح پر چادر ہو (اس جگہ انسان کے چہرہ کی شکل دکھا کر جن مقامات پر پردہ نہیں ہے ان کو کھلا رکھ کر باقی پردہ کے نیچے دکھایا گیا ہے) اس قسم کے پر دہ کو انگلستان کی عورتیں آسانی سے برداشت کر سکتی ہیں اور اس طرح پر سیر کرنے میں کچھ حرج نہیں آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔“ ریویو آف ریلیجز جلد 4 نمبر 1 صفحہ 17، جنوری 1905ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ غض بصر کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس کا مقصد مرد اور عورت کی نگاہوں کو آپس میں ملنے سے بچانا ہے ورنہ جو عورت بھی باہر نکلے گی اس کے پاؤں اور 84