بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 83

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا ایک احمدی مسلمان عورت کے لئے اپنے پاؤں کو پردہ سے باہر رکھنا جائز ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 03 مئی 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم نے جہاں پر وہ کے احکامات بیان فرمائے ہیں وہاں پہلے مومن مردوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔اس کے بعد مومن عورتوں کے لئے پردہ کے احکامات بیان فرماتے ہوئے انہیں پہلا حکم یہی دیا کہ مومن عورتیں بھی اپنی نظریں نیچی رکھا کریں۔اور پھر انہیں کہا کہ وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈال لیا کریں اور اپنی زینتیں ظاہر نہ کیا کریں۔اور اپنے پاؤں اس طرح نہ ماریں کہ لوگوں پر وہ ظاہر کر دیا جائے جو عورتیں عموماً اپنی زینت میں سے چھپاتی ہیں۔پاؤں زمین پر نہ مارنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اگر پاؤں میں کوئی زیور (پازیب وغیرہ) پہنی ہوئی ہے تو اس کی چھنکار سے لوگوں کی توجہ اس خاتون کی طرف ہو سکتی ہے اور غیروں کی نظریں اس پر اٹھ سکتی ہیں جو پردہ کے حکم کے منافی ہے۔اسی طرح اگر پاؤں پر مہندی یا نیل پالش وغیرہ لگا کر ان کا سنگھار کیا گیا ہے تو ایسے پاؤں غیر مردوں کے لئے کشش کا موجب ہو سکتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ غیر مردوں کی نظریں ایسی عورت پر اٹھیں گی، جس سے پردہ کے احکامات کی خلاف ورزی ہو گی۔لیکن اگر پاؤں پر کسی قسم کا بناؤ سنگھار نہیں کیا گیا تو ایسے پاؤں سے چونکہ کوئی کشش پیدا نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہی بے پردگی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔اس لئے اگر انہیں پردہ میں نہ بھی رکھا جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔احادیث میں بھی پردہ کے بارہ میں مختلف ہدایات ملتی ہیں۔ایک حدیث میں حضور ام نے عورت کے چہرہ اور ہاتھوں کے علاوہ اس کے جسم کے باقی حصہ کے پردہ کا حکم دیا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر عورت کے پاس نہ بند نہ ہو تو کیا وہ صرف اوڑھنی اور قمیص میں نماز پڑھ سکتی ہے ؟ اس پر حضور اللم نے فرمایا کہ بشر طیکہ کہ اس کی قمیض 83