بنیادی مسائل کے جوابات — Page 81
سوال: ایک خاتون نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی مجلس عرفان میں بیان ایک ارشاد کے حوالہ سے چچا اور ماموں سے پردہ کرنے کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی کی درخواست کی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ یکم جون 2020ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: آپ نے اپنے خط میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے جس ارشاد کا ذکر کیا ہے وہ سورۃ النور کی آیت نمبر 32 کے حوالہ سے مجلس عرفان میں ایک سوال کے جواب میں بیان فرمودہ ہے۔یہ بات درست ہے کہ اس آیت میں بیان رشتے جن سے عورت کو پردہ نہ کرنے کی رخصت دی گئی ہے، ان میں چچا اور ماموں کا ذکر نہیں ہے لیکن ان دونوں کا شمار محرم رشتوں میں ہی ہوتا ہے، جیسا کہ حضور نے بھی اپنے اس ارشاد میں فرمایا ہے۔اور سورۃ النساء میں بیان قرآنی حکم سے بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں سے نکاح کی حرمت بیان ہوئی ہے۔علاوہ ازیں احادیث میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ان کے استفسار پر حضور ای ایم نے انہیں چچا سے پردہ نہ کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔لیکن اس کے ساتھ پردہ کے بارہ میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق محرم رشتوں میں بھی ہر درجہ کے رشتہ سے پردہ میں رخصت کی الگ کیفیت ہے۔چنانچہ سورۃ النور میں جن محرم رشتہ داروں سے پردہ نہ کرنے کی رخصت آئی ہے، ان میں سے بھی ہر رشتہ کی دوسرے رشتہ سے پردہ کی رخصت کی ایک الگ صورت ہو گی۔چنانچہ خاوند سے پردہ کی جو رخصت ہے وہ اسی آیت میں بیان والد، بیٹے اور بھائی وغیرہ سے پردہ کی رخصت سے الگ ہے۔پس جس طرح اس آیت میں بیان رشتہ داروں سے پردہ کی مختلف کیفیات ہیں اسی طرح دیگر محرم رشتہ داروں سے بھی پردہ کی رخصت کی کیفیت میں فرق ہے۔اور یہی مضمون حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنے مذکورہ ارشاد میں سمجھا رہے ہیں کہ چا اور ماموں جو ایک 81