بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 69

ایک مسجد میں دو جمعے ہو سکتے ہیں سوال: نارووال پاکستان سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کیا کہ کیا نماز جنازہ نماز ہے یا اسے ایسے ہی نماز کا نام دیدیا گیا ہے کیونکہ اس کے لئے مکروہ اوقات کا خیال نہیں رکھا جاتا؟ نیز کیا ایک مسجد میں دو جمعے ہو سکتے ہیں ؟ ربوہ میں ڈیوٹی والے اسی مسجد میں علیحدہ خطبہ دیکر الگ جمعہ پڑھتے ہیں، جبکہ فقہ احمدیہ میں اس کی نفی کی گئی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 07 جنوری 2022ء میں ان سوالات کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: باقی جہاں تک ایک مسجد میں دو جمعوں کی ادائیگی کا سوال ہے تو اگر مجبوری ہو تو جس طرح نماز باجماعت دوبارہ ہو سکتی ہے جیسا کہ حدیث نبویہ الم سے ثابت ہے۔(سنن ترمذي كتاب الصلوة باب مَا جَاءَ فِي الْجَمَاعَةِ فِي مَسْجِدٍ قَدْ صُلّي فِيهِ مَرَّةً) اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی حسب ضرورت دوسری جماعت کو جائز قرار دیا ہے۔(اخبار بدر قادیان جلد 6، نمبر 1، مؤرخہ 10 جنوری 1907ء صفحہ 18) اسی طرح جمعہ بھی دوبارہ ہو سکتا ہے۔اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔البتہ اس کے لئے یہ احتیاط کر لینی چاہیئے کہ جس جگہ پہلے نماز جمعہ ادا کی گئی ہو وہاں دوبارہ جمعہ نہ پڑھا جائے بلکہ مسجد کے کسی اور حصہ میں ڈیوٹی والے خدام اپنے نئے خطبہ کے ساتھ الگ جمعہ پڑھ لیں۔چنانچہ اس کی مثال حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے عہد مبارک میں ہمیں ملتی ہے۔الفضل قادیان میں مدینتہ المسیح کے عنوان کے نیچے لکھا ہے: جمعہ کے دن زن و مرد مسجد اقصیٰ میں چلے جاتے۔جس سے بعض شریروں کو شرارت کرنے کا موقعہ مل گیا اور ایک دو صاحبوں کا مالی نقصان ہو گیا۔اس لئے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی تجویز کو حضرت مولوی صاحب (خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ناقل ) نے منظور فرمالیا۔وہ یہ کہ تا حصول اطمینان طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ 12 بجے 69