بنیادی مسائل کے جوابات — Page 61
انسانی جان بچانا سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حال ہی میں امریکہ کے ڈاکٹروں نے انسانی جان بچانے کے لئے سور کے دل کو بیمار انسان کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 02 فروری 2022ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: میں پہلے بھی کسی موقعہ پر اس بارہ میں بتا چکا ہوں کہ جہاں انسانی جان بچانے کا سوال ہو، وہاں اس قسم کے طریق علاج میں کوئی حرج کی بات نہیں۔شراب کو بھی اسلام نے حرام قرار دیا ہے لیکن دوائیاں جو انسانی جان بچانے کا موجب ہوتی ہیں، ان میں اس کا استعمال جائز ہے۔کیونکہ یہ سب اضطرار کی حالتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں سور کے گوشت کی حرمت بیان فرمائی ہے وہاں اضطراری حالت میں اس کے استعمال کی اجازت بھی دی ہے۔پس علاج کے طور پر جان بچانے کے لئے انسانی جسم میں سور کے دل کی ٹرانسپلانٹیشن (Transliteration) کرنا جو دراصل ایک اضطرار ہی کی حالت ہے ، جائز ہے اور اس میں کوئی ممانعت نہیں۔پرانے علماء و فقہاء میں سے بعض کا کہنا ہے کہ سور کا گوشت کھانا منع ہے لیکن اس کے بال اور کھال وغیرہ کا استعمال جائز ہے اور بعض نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اس کی چربی کھانا بھی جائز ہے۔اگر چہ ہمارے نزدیک عام حالات میں سور کی کسی بھی چیز کا ایسا استعمال جو کھانے کے مفہوم میں شامل ہو جائز نہیں۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ البقرۃ کی آیت 174 کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اس آیت میں جو لَحْمُ الْخِنْزِيرِ فرمایا اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے کہ تخم میں چربی بھی شامل ہے یا نہیں۔جہاں تک لغت کا سوال ہے شَخہ یعنی چربی کو تخم سے الگ قسم کا خیال کیا جاتا ہے۔لیکن مفسرین کہتے ہیں کہ تخم کے نام میں شخہ شامل ہے۔گو مفسرین کی دلیل ذوقی 61