بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 48

یعنی وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے ساتھی بنائے ہیں اور چارپایوں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اور اس طرح وہ تم کو زمین میں بڑھاتا ہے۔اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ بہت سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خدا شناسی کے بارے میں وسط کی شناخت یہ ہے کہ خدا کی صفات بیان کرنے میں نہ تو نفی صفات کے پہلو کی طرف جھک جائے اور نہ خدا کو جسمانی چیزوں کا مشابہ قرار دے۔یہی طریق قرآن شریف نے صفات باری تعالیٰ میں اختیار کیا ہے۔چنانچہ وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ خدا سنتا، جانتا، بولتا، کلام کرتا ہے۔اور پھر مخلوق کی مشابہت سے بچانے کے لئے یہ بھی فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلم شيء۔۔۔یعنی خدا کی ذات اور صفات میں کوئی اس کا شریک نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 377،376) پھر فرمایا: 66 تشبي ازل سے اور قدیم سے خدا میں دو صفتیں ہیں۔ایک صفت دوسری صفت تنزیہی۔اور چونکہ خدا کے کلام میں دونوں صفات کا بیان کرنا ضروری تھا یعنی ایک تشبیہی صفت اور دوسری تنزیہی صفت اس لئے خدا نے تشبیہی صفات کے اظہار کے لئے اپنے ہاتھ ، آنکھ ، محبت ، غضب وغیرہ صفات قرآن شریف میں بیان فرمائے اور پھر جب کہ احتمال تشبیہ کا پیدا ہوا تو بعض جگہ لیس کمثلہ کہہ دیا۔“ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 277) (قسط نمبر 40 ، الفضل انٹرنیشنل 23 ستمبر 2022ء صفحہ 11) 48 48