بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 42 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 42

اکیلی عورت کا حج پر جانا سوال: اکیلی عورت کے حج پر جانے کے بارہ میں محترم ناظم صاحب دارالافتاء کے جاری کردہ ایک فتویٰ کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 فروری 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: میرے نزدیک حج اور عمرہ کے لئے عورت کے ساتھ محرم کی شرط ایک وقتی حکم تھا بالکل اسی طرح جس طرح اُس زمانہ میں اکیلی عورت کے لئے عام سفر بھی منع تھا، کیونکہ اُس وقت ایک تو سفر بہت مشکل اور لمبے ہوتے تھے ، راستوں میں کسی قسم کی سہولتیں میسر نہیں تھیں اور الٹا سفروں میں رہزنی کے خطرات بہت زیادہ تھے۔چنانچہ ایک موقع پر جب حضور ایم کی خدمت میں رہزنی کی شکایت کی گئی تو آپ نے آئندہ زمانہ کے پر امن سفروں کی بشارت دیتے ہوئے حضرت عدی بن حاتم کو فرمایا: فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيْرَةِ حَتَّي تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ۔یعنی اگر تمہاری زندگی زیادہ ہوئی تو یقینا تم دیکھ لو گے کہ ایک ہودج نشیں عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی، اللہ کے علاوہ اس کو کسی کا خوف نہ ہو گا۔اسی حدیث کے آخر پر حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں : فَرَأَيْتُ الظَّعِيْنَةَ تَرْتَحِلُ مِنْ الْحِيْرَةِ حَتَّي تَطُوْفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا الله یعنی میں نے ہودج نشین عورت کو دیکھا ہے کہ وہ حیرہ سے سفر شروع کرتی ہے اور کعبہ کا طواف کرتی ہے اور اللہ کے سوا اس کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔(صحيح بخاري كتاب المناقب) حیرہ اس زمانہ میں ایرانی حکومت کے تحت ایک شہر تھا جو کوفہ کے قریب واقع تھا۔اس لحاظ سے اُس زمانہ میں یہ کئی دنوں کا سفر بنتا ہے۔پس اگر اُس زمانہ میں ایک عورت حیرہ سے چل کر کئی دنوں کا سفر کر کے مکہ خانہ کعبہ کا طواف کرنے آسکتی ہے تو اس زمانہ میں چند گھنٹوں کا ہوائی جہاز کا سفر کر کے ایک عورت عمرہ اور حج وغیرہ کے لئے کیوں نہیں جاسکتی؟ (قسط نمبر 20، الفضل انٹر نیشنل 10 ستمبر 2021ء صفحہ 11) 42