بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 41

اقامت سوال: اسی طرح اسی ملاقات میں خاکسار نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ آجکل کے (Covid کے) مجبوری کے حالات میں جبکہ گھر والے افراد گھر پر نماز با جماعت ادا کریں تو کیا عورت نماز باجماعت کے لئے اقامت کہہ سکتی ہے، نیز امام کے بھولنے پر لقمہ دے سکتی ہے؟ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا: جواب: اگر صرف گھر کے مرد اور عور تیں ہوں تو لقمہ دے سکتی ہے، لیکن غیر مرد ہوں تو حسب ارشاد حضور ایم کسی بھول، سہو کی صورت میں تالی بجائے گی۔لقمہ نہیں دے گی یا سبحان اللہ نہیں کہے گی۔نیز فرمایا عورت اقامت نہیں کہے گی خواہ گھر میں ہی نماز ہو رہی ہو کیونکہ حضور ام نے اس کی اجازت نہیں دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں بھی آتا ہے کہ آپ جب کسی مجبوری کی وجہ سے گھر پر نماز ادا کرتے تھے اور حضرت اماں جان کو نماز میں اپنے ساتھ کھڑا کر لیا کرتے تھے (حضور علیہ السلام کے حضرت اماں جان کو ساتھ کھڑے کرنے کی مجبوری بھی حضرت اماں جان نے بیان فرمائی ہوئی ہے) لیکن یہ کہیں نہیں آتا کہ آپ نے حضرت اماں جان کو اقامت کہنے کا ارشاد فرمایا ہو۔اس لئے اقامت مرد خود ہی کہے گا۔اور ویسے بھی اقامت کے متعلق تو حدیث میں بھی آتا ہے کہ بوقت ضرورت امام خود بھی کہہ سکتا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے ارشاد مبارک میں جس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا وہ سنن ترمذی میں عمرو بن عثمان بن یعلی بن مرہ سے مروی ہے، جسے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا ( حضرت یعلی بن مرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ لوگ نبی اکرم الم کے ساتھ سفر میں تھے۔چنانچہ جب وہ ایک تنگ جگہ میں پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا۔وہاں اوپر آسمان سے بارش برسنے لگی اور نیچے زمین پر کیچڑ ہو گیا۔پس رسول اللہ نے اپنی سواری پر سوار رہتے ہوئے اذان دی اور اقامت کہی۔پھر حضور ا نے اپنی سواری آگے کی اور اشاروں سے انہیں نماز پڑھاتے ہوئے ان کی امامت کروائی۔آپ سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔(سنن ترمذي كتاب الصلاة باب مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَي الدَّايَّةِ فِي الطِّيْنِ وَالْمَطَرِ) (قسط نمبر 15، الفضل انٹر نیشنل 21 تا 31 مئی 2021ء ( خصوصی اشاعت برائے یوم خلافت) صفحہ 24) 41