بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 36

سوال: جرمنی سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ روزہ کے بغیر رمضان کا اعتکاف بدعت تو شمار نہیں ہوتا اور کیا روزہ کے بغیر اعتکاف کی کوئی سنت یا اصحاب رسول الم سے کوئی مثال ملتی ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مئی 2022ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آنحضور الم کی سنت سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضور ام رمضان کا اعتکاف روزوں کے ساتھ ہی فرمایا کرتے تھے۔اسی لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ أَن لا يَعُودَ مَرِيضًا وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةٌ وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً وَلَا يُبَاشِرَهَا وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ - (سنن ابي داؤد کتاب الصوم باب الْمُعْتَلِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ) یعنی سنت یہ ہے کہ معتکف کسی مریض کی عیادت اور نماز جنازہ کے لئے مسجد سے باہر نہ جائے۔اور بیوی کو شہوت کے ساتھ ) نہ چھوئے، اور نہ اس کے ساتھ مباشرت کرے۔اور سوائے انسانی ضرورت ( قضا حاجت وغیرہ) کے کسی اور ضرورت کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلے۔اور روزوں کے بغیر اعتکاف درست نہیں۔اور جامع مسجد کے سوا کسی اور جگہ اعتکاف درست نہیں۔پس مسنون اعتکاف کے بارہ میں صحابہ رسول اللم اور علماء و فقہاء کا یہی موقف ہے کہ اس کے لئے روزے رکھنے ضروری ہیں اور حضور ﷺ کی سنت متواترہ یہی تھی کہ آپ اہم رمضان کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب الاعتكاف باب اعتكاف الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ) باقی جہاں تک رمضان کے مسنون اعتکاف کے علاوہ عام اعتکاف کرنے یا کسی نذر کا اعتکاف کرنے کی بات ہے تو ایسا اعتکاف روزہ کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے اور یہ اعتکاف چند دنوں یا چند گھنٹوں کا بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور الم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات کے لئے مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔اس پر حضور الم نے فرمایا کہ اپنی نذر کو پورا 36