بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 604

اسی طرح حضرت عائشہؓ سے مروی ہے: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَ أَنَا فِي الْبَيْتِ فَيَفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ بِتَسْلِيْمٍ يُسْمِعُنَاهُ (مسند احمد بن حنبل، حديث السَّيِّدَة عَائِشَةُ حديث نمبر 23398) یعنی رسول اللہ الی یا حجرہ میں نماز پڑھتے تھے اور میں گھر میں ہوتی ، آپ وتر اور پہلی دو رکعتوں میں سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے تھے اور اپنا سلام ہمیں سناتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وتر پڑھنے کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضرت صاحب وتر دو پڑھ کر سلام پھیرتے تھے یا تین پڑھ کر ؟ اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عموٹا دو پڑھ کر۔مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہا۔جس قدر واقف لوگوں سے اور روایتیں سُنی ہیں۔ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دو پڑھ کر سلام پھیرتے تھے پھر ایک پڑھتے۔“ (الفضل قادیان دار الامان نمبر 97، جلد 9 مورخہ 12 جون 1922ء صفحہ 7) پس اگر چہ فقہاء نے تینوں وتر اکٹھے ایک ہی سلام کے ساتھ درمیان میں تشہد بیٹھ کر پڑھنے کے طریق کو بھی درست اور مسنون قرار دیا ہے لیکن ہمارے آقا و مطاع آنحضور لم اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمومی سنت یہی تھی کہ آپ وتر کی دورکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر کر پھر تیسری رکعت الگ پڑھا کرتے تھے۔(قسط نمبر 45، الفضل انٹر نیشنل 16 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 604