بنیادی مسائل کے جوابات — Page 603
سوال: یو کے سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ ہم عشاء کی نماز میں وتر کی آخری رکعت الگ پڑھتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ نیز یہ کہ جب ہم Holidays پر جاتے ہیں اور اپارٹمنٹ ٹک کرتے ہیں تو کیا ہم وہاں کے Frying pans وغیرہ استعمال کر سکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 12 اکتوبر 2021ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: علمائے حدیث و فقہ نے وتر پڑھنے کے کئی طریق بیان کئے ہیں اور انہوں نے اپنے اپنے موقف کے حق میں مختلف دلائل بھی دیئے ہیں۔ان میں زیادہ معروف دو طریق ہیں ایک یہ کہ دو رکعات پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر تیسری رکعت الگ پڑھی جائے۔اور دوسرا طریق یہ ہے کہ تینوں رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ اکٹھی پڑھی جائیں اور درمیان میں دو رکعات کے بعد تشہد بیٹھا جائے۔چنانچہ ایک شخص کے سوال پر کہ وتر کس طرح پڑھنے چاہئیں ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: خواہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر کر تیسری رکعت پڑھ لو۔خواہ تینوں ایک ہی سلام سے در میان میں التحیات بیٹھ کر پڑھ لو۔“ (الحکم نمبر 13، جلد 7، مؤرخہ 10 اپریل 1903ء صفحہ 14) احادیث میں آتا ہے کہ حضور اللهم عموماً وتروں کی تین رکعات کے درمیان سلام کے ساتھ فاصلہ کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْصِلُ بَيْنَ الْوَتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِيْمَةٍ وَيُسْمِعُنَاهَا۔(مسنداحم مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله۔بن عمر بن خطاب حديث نمبر 5204) یعنی رسول اللہ علیم وتر اور اس کے قبل کی دورکعتوں کے درمیان سلام کے ساتھ فاصلہ کر لیا کرتے تھے اور یہ سلام ہمیں سنایا کرتے تھے۔603