بنیادی مسائل کے جوابات — Page 585
پس اگر کوئی یہ نماز اکیلا پڑھنا چاہے تو ہم اسے روکتے نہیں ہیں۔لیکن اس نماز کو باجماعت ادا کرنا بدعت ہے اور منع ہے۔جہاں تک اس نماز کے پڑھنے کا طریق ہے تو سنن ابی داؤد میں مروی ہے کہ حضور الم نے حضرت عباس سے فرمایا کہ آپ چار رکعات نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کی قراءت سے فارغ ہو کر 15 مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ پڑھیں۔پھر رکوع میں 10 مرتبہ۔پھر رکوع سے اٹھ کر 10 مر تبہ۔پھر سجدہ میں 10 مر تبہ۔پھر دونوں سجدوں کے درمیانی قعدہ میں 10 مر تبہ۔پھر دوسرے سجدہ میں 10 مر تبہ اور پھر دوسرے سجدہ سے اٹھ کر 10 مرتبہ یہ تسبیحات پڑھیں۔اس طرح ہر رکعت میں 75 مرتبہ یہ تسبیحات ہوں گی۔اور اگر آپ طاقت رکھتے ہوں تو روزانہ ایک مرتبہ یا ہر جمعہ کو ایک مرتبہ یا ہر مہینہ میں ایک مرتبہ یا ہر سال میں ایک مرتبہ یا اپنی پوری عمر میں ایک مرتبہ یہ نماز پڑھیں۔(سنن ابي داؤد کتاب الصلاة باب صلاة التسبيح) (قسط نمبر 39، الفضل انٹر نیشنل 26 اگست 2022ء صفحہ 9) 585