بنیادی مسائل کے جوابات — Page 563
اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا بلکہ یہ تو تحریک ہے کہ مرد کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنی بیوی کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور عورت کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنے خاوند کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اگر وہ دنیوی زندگی کی طرح اگلے جہان میں بھی اکٹھا رہنا چاہتے ہیں تو چاہیے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرے تا ایسانہ ہو کہ میاں جنت میں ہو اور بیوی دوزخ میں ہو یا بیوی جنت میں اور میاں دوزخ میں ہو۔ان معنوں کے رُو سے یہ روحانی پاکیزگی کی ایک اعلیٰ تعلیم ہے جس پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کی خوبی کی داد دینی چاہیئے۔باقی رہا یہ کہ اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہر شخص کو ایک پاک جوڑا دیا جائے گا تو ان معنوں کے رو سے بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر یہی معنی ہوں کہ ہر مرد کو ایک پاک بیوی دی جائے گی اور ہر عورت کو ایک پاک مرد دیا جائے گا تو اس پر کیا اعتراض ہے؟ اعتراض تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی ناپاک فعل کی طرف اشارہ کیا جائے جب قرآن شریف پاک کا لفظ استعمال کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ جنت میں وہی کچھ ہو گا جو جنت کے لحاظ سے پاک ہے پھر اس پر اعتراض کیسا۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ 252، 253) ، حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سورۃ الدخان کی آیت وَ زَوَّجْنُهُمْ بِحُوْرِ عِيْنٍ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم ان کی ازواج کو حور بنا دیں گے اور انہیں ازدواجی رشتہ میں باندھیں گے۔پھر اس سے اگلی آیت میں فرمایا کہ ہم ان کے ساتھ جنت میں ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے۔اس جگہ بیوی کا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ زَوَّجْنُهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ پہلی آیت میں آچکا ہے۔حضرت نبی کریم ا نے ایک بڑھیا سے کہا کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تو اس نے رونا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ میں کہاں مروں کھپوں گی؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے یہ تو نہیں کہا کہ تم نہیں جاؤ گی۔میں نے یہ کہا ہے کہ جنت میں کوئی بوڑھی نہیں جائے گی۔تم جوان 563