بنیادی مسائل کے جوابات — Page 562
عزت کی علامت ہوتی ہے۔(البدر نمبر 11، جلد 1، مؤرخہ 9 جنوری 1903ء صفحہ 86) جنت کی حوروں کا معاملہ بھی تمثیلی کلام پر مبنی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے چار جگہوں پر حوروں کا ذکر فرمایا ہے۔پہلی دو جگہ (سورۃ الدخان اور سورۃ الطور ) میں فرمایا: وَزَوَّجُنُهُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ کہ ہم جنتیوں کو بڑی بڑی سیاہ آنکھوں والی حوروں کے ساتھ ازدواجی رشتہ میں باندھ دیں گے۔اور باقی دو جگہ (سورۃ الرحمن اور سورۃ الواقعہ ) میں ان حوروں کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ خیموں میں محفوظ یا قوت و مرجان موتیوں کی طرح ہوں گی۔یعنی شرم و حیا سے معمور ، نیک، پاکباز، خوبصورت اور خوب سیرت ہوں گی۔لفظ ”زوج“ کے معانی جوڑے کے ہوتے ہیں۔اس سے صرف مرد یا خاوند مراد لینا درست نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب نیک و پاک ساتھی اور جوڑا ہے۔اس اعتبار سے ان آیات کا مطلب ہو گا کہ ہم جنت میں نیک عورتوں کو پاک مردوں اور نیک مردوں کو پاک عورتوں کا ساتھی بنا دیں گے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ البقرۃ کی آیت وَ لَهُم فِيهَا أَزْوَاج مطَهَّرَةٌ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ- انہیں وہاں پاک ساتھی یا پاک بیویاں یا پاک خاوند ملیں گے۔پاک ساتھی کے معنوں کی صورت میں تو کسی کے لئے اعتراض کرنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اس صورت میں اس کے یہ معنی ہونگے کہ جنت میں جس طرح غذا ایک دوسرے کی ممد ہو گی اس طرح اس کے سب مکین ایک دوسرے کی رُوحانی ترقی میں مدد کرنے والے ہونگے گویا اندرونی اور بیرونی ہر طرح کا امن اور تعاون حاصل ہو گا۔اور اگر خاوند یا بیوی کے معنی کئے جائیں کیونکہ ازواج مرد اور عورت دونوں کے لئے بولا جاتا ہے عورت کا زوج اس کا خاوند ہے اور مرد کا زوج اس کی بیوی تو اس صورت میں اس کے ایک معنی یہ ہوں گے کہ ہر جنتی کے پاس اس کا وہ جوڑا ر کھا جائے گا جو نیک ہو گا۔اس صورت میں بھی 562