بنیادی مسائل کے جوابات — Page 536
کے لئے سات ہزار برس کا دور ہوتا ہے۔اسی دور کی طرف اشارہ کرنے کے لئے انسانوں میں سات دن مقرر کئے گئے ہیں۔غرض بنی آدم کی عمر کا دور سات ہزار برس مقرر ہے۔اور اس میں سے ہمارے نبی الیم کے عہد میں پانچ ہزار برس کے قریب گزر چکا تھا۔یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ خدا کے دنوں میں سے پانچ دن کے قریب گزر چکے تھے جیسا کہ سورۃ والعصر میں یعنی اس کے حروف میں ابجد کے لحاظ سے قرآن شریف میں اشارہ فرما دیا ہے کہ آنحضرت ام کے وقت میں جب وہ سورۃ نازل ہوئی تب آدم کے زمانہ پر اسی قدر مدت گزر چکی تھی جو سورہ موصوفہ کے عددوں سے ظاہر ہے۔اس حساب سے انسانی نوع کی عمر میں سے اب اس زمانہ میں چھ ہزار برس گزر چکے ہیں اور ایک ہزار برس باقی ہیں۔قرآن شریف میں بلکہ اکثر پہلی کتابوں میں بھی یہ نوشتہ موجود ہے کہ وہ آخری مرسل جو آدم کی صورت پر آئے گا اور مسیح کے نام سے پکارا جائے گا ضرور ہے کہ وہ چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو جیسا کہ آدم چھٹے دن کے آخر میں پیدا ہوا۔یہ تمام نشان ایسے ہیں کہ تدبر کرنے والے کے لئے کافی ہیں۔اور ان سات ہزار برس کی قرآن شریف اور دوسری خدا کی کتابوں کے رُو سے تقسیم یہ ہے کہ پہلا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا زمانہ ہے اور دوسرا ہزار شیطان کے تسلط کا زمانہ ہے اور پھر تیسر ا ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا اور چوتھا ہزار شیطان کے تسلط کا اور پھر پانچواں ہزار نیکی اور ہدایت کے پھیلنے کا یہی وہ ہزار ہے جس میں ہمارے سید و مولی ختمی پناہ حضرت محمد اللهم دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے اور شیطان قید کیا گیا ہے) اور پھر چھٹا ہزار شیطان کے کھلنے اور مسلّط ہونے کا زمانہ ہے جو قرونِ ثلاثہ کے بعد شروع ہو تا اور چودھویں صدی کے سر پر ختم ہو جاتا ہے۔اور پھر ساتواں ہزار خدا اور اس کے مسیح کا اور ہر ایک خیر و برکت اور ایمان اور صلاح اور تقویٰ اور 536