بنیادی مسائل کے جوابات — Page 527
میاں بیوی سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں کسی اخبار میں سے شائع ہونے والا ایک عورت کا واقعہ کہ اس نے اپنے خاوند کو اس کے شراب کے نشے میں دُھت ہونے کی وجہ سے ہمبستری سے انکار کر دیا، بیان کر کے دریافت کیا ہے کہ اگر میاں بیوی میں سے ایک فریق نشے میں ہو تو کیا باہم محبت کے جذبات قائم رہ سکتے ہیں؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 30 مارچ 2020ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: ایسی صورت میں سوال محبت کے جذبات قائم رہنے یا نہ رہنے کا نہیں بلکہ سلیم فطرت کی بات ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرعون کی بیوی کی اس دعا کو ہمارے لئے محفوظ کر کے ہماری رہنمائی فرمائی ہے کہ رَبّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ یعنی اے خدا ! تُو اپنے پاس ایک گھر جنت میں میرے لئے بھی بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کی بد اعمالیوں سے بچالے۔اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ فرعون کی بیوی فرعون سے علیحد گی لینے میں بہر حال مجبور تھی جو اس نے خدا کے حضور یہ التجا کی۔پس اس قرآنی تعلیم سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی مومنہ عورت کے بڑے خاوند کی سمجھانے کے باوجود اصلاح نہ ہو رہی ہو اور عورت کو اس سے علیحدگی لینے میں کوئی مجبوری در پیش نہ ہو تو اس مومنہ عورت کو دعا کر کے ایسے بُرے خاوند سے علیحدگی لے لینی چاہیئے۔(قسط نمبر 23، الفضل انٹر نیشنل 19 نومبر 2021ء صفحہ 12) 527