بنیادی مسائل کے جوابات — Page 487
ماں کی طرف سے اپنی مرضی سے بچہ دے کر واپسی کا مطالبہ سوال: کسی خاتون کا اپنی مرضی سے اپنا بچہ اپنی جیٹھانی کو دے کر ، کئی سال بعد دونوں خاندانوں میں اختلاف کی صورت پیدا ہو جانے پر ماں کی طرف سے بچہ کی واپسی کے مطالبہ کے بارہ میں ایک خط حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں موصول ہوا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 جون 2020ء میں اس بارہ میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔حضور نے فرمایا: جواب: عام دنیوی اشیاء کی لین دین میں جب انسان اپنی مرضی اور خوشی سے کسی کو اپنی چیز دیدیتا ہے تو پھر اس چیز کی واپسی کے مطالبہ کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔اولا د اگر چہ اس قسم کی دنیوی اشیاء میں تو شمار نہیں ہوتی لیکن پھر بھی جب کوئی شخص اپنی مرضی اور خوشی سے کسی کو اپنا بچہ دیدے اور دوسرا شخص اسے اپنی اولاد کی طرح رکھے تو پھر اس کی واپسی کا مطالبہ بھی اخلاقاً پسندیدہ نہیں۔اسی لئے جماعتی قضاء نے تمام حالات کا جائزہ لے کر یہی فیصلہ دیا ہے کہ حقیقی ماں کا اپنے بچہ کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں۔میرے نزدیک اگر بچہ کی عمر نو سال سے زیادہ ہے تو اب فقہی اصول خیار التمیز کے تحت اس معاملہ کا فیصلہ ہونا چاہیے اور بچہ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے، جہاں بچہ اپنی مرضی اور خوشی سے جانے کا عندیہ دے بچہ کو وہیں رکھا جائے۔اللہ تعالیٰ آپ دونوں خاندانوں کو عقل اور سمجھ عطا فرمائے، آپ خدا تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے محض اس کی رضا کی خاطر ایک دوسرے کے لئے اپنے جائز حقوق چھوڑ کر ان جھگڑوں کو ختم کرنے والے ہوں۔آمین (قسط نمبر 24، الفضل انٹر نیشنل 03 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 487