بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 486 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 486

مالی لین دین سوال: مالی لین دین کے ایک قضائی معاملہ میں ایک فریق کے محترم مفتی صاحب سے اس معاملہ کی بابت فتویٰ کی درخواست کرنے اور اس درخواست کی نقل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کرنے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درخواست دہندہ کو اپنے مکتوب مؤرخہ 25 مارچ 2021ء میں اس بارہ میں اصولی ہدایت دیتے ہوئے درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: آپ نے اپنے تنازعہ کے بارہ میں فتویٰ کے حصول کے لئے جو تفصیلی خط محترم مفتی سلسلہ صاحب کو بھجوایا تھا اور اس کی ایک نقل مجھے بھی بھجوائی تھی۔میں نے محترم مفتی صاحب کو آپ کے اس خط کا جواب دینے کی ہدایت دی تھی اور ساتھ انہیں لکھا تھا کہ وہ اس جواب کی ایک نقل مجھے بھی بھجوائیں۔محترم مفتی صاحب کا فتویٰ نیز آپ کے تنازعہ سے متعلق دارالقضاء یو کے اور شعبہ امور عامہ یو کے میں موجود فائلز اسی طرح عدالت کے فیصلہ کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے اور عدالت نے جو ( حرجانہ کی) زائد رقم آپ کے ذمہ ڈالی ہے وہ سود کے زمرہ میں ہر گز نہیں آتی۔عدالت کی نظر میں وہ فریق ثانی کا حق ہے اور شرعی لحاظ سے بھی فریق ثانی کے اس رقم کے لینے میں کوئی امر مانع نہیں، وہ اس رقم کو وصول کر سکتے ہیں۔(قسط نمبر 34، الفضل انٹر نیشنل 20 مئی 2022ء صفحہ 11) 486