بنیادی مسائل کے جوابات — Page 447
سوال: قرآن کریم کی حافظہ ایک بچی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا میرے والد صاحب میری اقتداء میں نماز تراویح ادا کر سکتے ہیں؟ اور اگر نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کا آغاز کرنا ہو تو کیا پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد دوبارہ سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ البقرۃ کی قراءت شروع کی جائے گی؟ نیز یہ کہ جہری نمازوں میں سورتوں کی قراءت سے قبل بِسمِ اللہ بھی اونچی آواز میں پڑھنی چاہیئے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 جولائی 2021ء میں اس سوال کے جواب میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اسلام نے نماز باجماعت کی فرضیت صرف مردوں پر عائد فرمائی ہے اور عورتوں کا باجماعت نماز ادا کرنا محض نفلی حیثیت قرار دیا ہے۔اس لئے مردوں کی موجودگی میں کوئی عورت نماز باجماعت میں ان کی امام نہیں بن سکتی۔آنحضور لا یتیم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین نے کبھی کسی عورت کو مردوں کا امام مقرر نہیں فرمایا۔اسی طرح اس زمانہ کے حکم وعدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جب کبھی کسی علالت کی وجہ سے گھر پر نماز ادا فرماتے تو باوجو د علالت کے نماز کی امامت خود کراتے۔پس نفل نماز ہو یا فرض، اگر کسی جگہ پر مرد اور عورتیں دونوں موجود ہوں تو نماز باجماعت کی صورت میں نماز کا امام مرد ہی ہو گا۔2۔نماز کے دوران قرآن کریم کی تلاوت آغاز سے شروع کرتے وقت بھی طریق یہی ہے کہ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ البقرۃ کی تلاوت شروع کی جائے گی ، دوبارہ سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی۔البتہ فقہاء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ قرآن کریم ختم کرنے کی صورت میں اگر کوئی شخص نماز میں سورۃ الناس کے بعد دوبارہ قرآن کریم کا کچھ ابتدائی حصہ پڑھنا چاہے تو وہ سورۃ فاتحہ سے آغاز کر سکتا ہے اور اس کے بعد سورۃ البقرۃ کا بھی کچھ حصہ پڑھ سکتا ہے، اس میں کچھ حرج کی بات نہیں لیکن ابتداء میں سورۃ فاتحہ کا تکرار بعض فقہاء کے نزدیک موجب سجدہ سہو ہے۔447