بنیادی مسائل کے جوابات — Page 430
سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ کیا میں اپنے کسی ایسے عیسائی، ہندو یا بدھ مت سے تعلق رکھنے والے دوست کی وفات پر اس کے لئے دعا کر سکتا ہوں جو جماعت احمدیہ کے لئے اچھے اور پیار کے جذبات رکھتا تھا؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 فروری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطاء فرمایا: جواب: جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کو لکھا تھا کہ اسلام ہمیں کسی انسان سے نفرت نہیں سکھاتابلکہ صرف اس کے بُرے فعل سے بیزاری کی تعلیم دیتا ہے۔اور جہاں تک کسی کے جنت یا جہنم میں جانے کا معاملہ ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور کسی دوسرے انسان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ اس دنیا میں بیٹھ کر کسی انسان کی جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے۔ہاں یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنے انبیاء اور فرستادوں کو کسی شخص کے جنتی یا جہنمی ہونے کا علم دیدیتا ہے۔لیکن اس شخص کے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ: ”یقیناً جو لوگ ( محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ لوگ جو یہودی بن گئے اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے شرک کیا۔اللہ یقیناً ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔اللہ یقیناً ہر ایک چیز کا نگران ہے۔“ (سورة الحج : 18) پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس مضمون کو بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان کے نیک عمل ضائع نہیں کر تا خواہ وہ انسان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ”جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جو یہودی ہیں نیز نصاری اور صابی (ان میں سے) جو (فریق) بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر (کامل) ایمان لایا ہے اور اس نے نیک عمل کئے ہیں یقیناً ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا (مناسب) اجر ہے۔“ 430 (سورة البقرة: 63)