بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 398

جائیں۔وہ دیکھیں کہ ہم مذاق اڑاتے ہیں لیکن یہ لوگ تو حقیقی اسلام کی تعلیم ہمیں بتاتے ہیں۔یہ لوگ ہیں جو پیار اور محبت کو پھیلاتے ہیں۔ہم ان سے نفرت کی بات کرتے ، یہ ہمارے سے پیار کی بات کرتے ہیں۔قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے کہ كَأَنَّهُ وَلِيُّ حَمِیمٌ۔تم اگر صحیح طرح اخلاق سے پیش آؤ گے تو وہ جو تمہارے دشمن ہیں وہ تمہارے جانثار دوست بن جائیں گے۔اس لئے ہماری Response یہی ہے کہ ہم خاموشی سے اپنے عمل ٹھیک کریں، اپنی حالتوں کو بہتر کریں، اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالتوں کو بہتر کر اور اگر اللہ کے نزدیک ان لوگوں کی حالت بہتر نہیں ہونی تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں سے نجات دے اور ان کے منہ بند کر دے تاکہ یہ ہمارے پیاروں کا مذاق نہ اڑائیں۔نہ مسیح موعود کا اور اس سے بڑھ کر نہ رسول پاک ﷺ کا مذاق اڑائیں۔اور ہم خوشیاں دیکھنے والے ہوں۔اس دنیا میں جب رسول پاک الم کی عزت قائم ہوتی ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔جب مسیح موعود علیہ السلام جو رسول پاک ایم کے غلام ہیں، ان کی عزت قائم ہوتی ہے تو ہمیں خوشی ہوتی ہے۔تو ہمیں دعا کرنی چاہیئے کہ ہم ان لوگوں کی عزت کو قائم ہوتا دیکھیں تا کہ ہمیں خوشی پہنچے۔اللہ سے مانگنا ہے۔ہم نے خود نہ ڈنڈا پکڑنا ہے، نہ رائفل پکڑنی ہے، نہ توپ پکڑنی ہے اور نہ چھرا پکڑنا ہے۔کچھ نہیں کرنا۔ہم نے اللہ کے آگے جھکنا ہے۔اپنی حالتوں کو بہتر کرنا ہے اور درود شریف زیادہ سے زیادہ پڑھنا ہے۔(قسط نمبر 4، الفضل انٹر نیشنل 18 دسمبر 2020ء صفحہ 12) 398