بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 395 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 395

نے میرے خطبہ جمعہ مؤرخہ 24 دسمبر 2004ء کے حوالہ سے جو فتویٰ دیا ہے اس سے اگر آپ یہ استنباط کرنا چاہتے ہیں کہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے نکاح کے لئے ولی کی اجازت کی بالکل ضرورت نہیں تو یہ درست استنباط نہیں ہے۔کیونکہ کنواری یا بیوہ / مطلقہ دونوں کو اپنے نکاح کے لئے ولی کی اجازت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور دونوں کے نکاح کے موقعہ پر ان کا ولی ہی ایجاب و قبول کرتا ہے۔آنحضور الم کے ارشادات اور خلفائے راشدین کے تعامل سے ثابت ہو تا ہے کہ ہر عورت خواہ وہ کنواری ہو یا بیوہ / مطلقہ اس کے نکاح کے لئے ولی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔اسی موقف کی تائید حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے ارشادات سے ہوتی ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”اسلام نے یہ پسند نہیں کیا کہ کوئی عورت بغیر ولی کے جو اُس کا باپ یا بھائی یا اور کوئی عزیز ہو خود بخود اپنا نکاح کسی سے کرلے۔“ (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 289) مرقاة الیقین فی حیات نور الدین میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کے بارہ میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان فرمایا ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ نے بعض علماء (میاں نذیر حسین دہلوی اور شیخ محمد حسین بٹالوی) کے فتویٰ کو قبول کر کے لا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِقٍ کی حدیث میں کلام خیال کرتے ہوئے ایک بیوہ سے اس کے ولی کی رضامندی کے بغیر شادی کا ارادہ کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو مرتبہ خواب میں آنحضور الم کی کچھ متغیر حالت دکھا کر آپ کو اس خواب کی یہ تفہیم سمجھائی کہ ان مفتیوں کے فتووں کی طرف توجہ نہ کرو۔حضور فرماتے ہیں: تب میں نے اسی وقت دل میں کہا کہ اگر سارا جہان بھی اس کو ضعیف کہے گا تب بھی میں اس حدیث کو صحیح سمجھوں گا۔“ (مرقات الیقین فی حیات نور الدین صفحہ 158 تا 160) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم ایم کی خدمت میں ایک عورت نکاح کرانے کے لئے آئی تو آپ نے اس کے لڑکے کو جس کی عمر غالباً دس یا گیارہ سال تھی ولی 395