بنیادی مسائل کے جوابات — Page 383
سوال: جرمنی سے ایک دوست نے ناظم صاحب قضاء جر منی کو لکھے جانے والے اپنے خط کی نقل حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں بھی بھجوائی، جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد عدت میں بیوی سے تعلقات زوجیت قائم کر لینے اور پھر ان تعلقات کے بارہ میں قضاء سے غلط بیانی کرنے پر قضاء کے فیصلہ طلاق کی حیثیت دریافت کی۔نیز دریافت کیا کہ قضاء کے اس فیصلہ طلاق سے ان کی طلاق ہو گئی ہے یا انہیں دوبارہ یہ سارا عمل کرنا پڑے گا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 29 اکتوبر 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کی بیان کردہ صورت کے مطابق آپ کی وہ طلاق جس کی عدت کے دوران آپ میاں بیوی میں تعلقات زوجیت قائم ہو گئے تھے ، مؤثر نہیں ہوئی۔اور اس کے متعلق قضاء کی طرف سے آپ میاں بیوی کے درمیان کیا جانے والا فیصلہ طلاق درست نہیں ہے۔کیونکہ آپ نے قضاء سے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔البتہ اسلام میں خاوند کو ملنے والے طلاق کے تین مواقع میں سے ایک موقعہ آپ نے استعمال کر لیا ہے۔نیز اس طلاق کی عدت کے دوران آپ میاں بیوی کے درمیان چونکہ تعلقات زوجیت قائم ہو گئے تھے ، اس لئے یہ آپ کا اس طلاق سے رجوع شمار ہو گا۔اب اگر آپ اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتے ہیں تو طلاق دینے کی صورت میں یہ آپ کی طرف سے دوسری طلاق شمار ہو گی۔اور عدت تین حیض ہو گی۔اور اگر حیض نہ آتے ہوں تو تین ماہ ہو گی اور اگر آپ کی بیوی حاملہ ہے تو عدت وضع حمل ہو گی۔اس عدت کے گزرنے کے بعد بشر طیکہ آپ عدت میں رجوع نہیں کرتے تو پھر آپ میاں بیوی کے درمیان طلاق مؤثر ہو گی۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور آپ دونوں میاں بیوی کو اسلام کے تمام احکامات پر سچائی اور خوف خدا کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین (قسط نمبر 46، الفضل انٹر نیشنل 23 دسمبر 2022ء صفحہ 11) 383