بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 371 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 371

سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ اگر میاں بیوی میں ان کی شادی کے عرصہ میں تین دفعہ طلاق ہو جائے تو تیسری طلاق کے بعد صلح کی کیا صورت ہو گی ؟ اس پر حضور انور نے اپنے مکتوب مورخہ 22 جولائی 2019ء میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم کا حکم الطَّلَاقُ مرتن بہت واضح ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایسی طلاق جس میں رجوع ہو سکے، صرف دو مر تبہ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد فرمایا: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ یعنی ایسی دو طلاقوں کے بعد اگر خاوند اپنی بیوی کو تیسری طلاق دیدے تو اس تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کا اس بیوی سے صلح کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔نہ عرصہ عدت میں بغیر نکاح کے اور نہ ہی عدت کے ختم ہونے پر نکاح کے ساتھ وہ اس کے ساتھ خانہ آبادی کر سکتا ہے۔جب تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے با قاعدہ نکاح نہ کرے اور وہ خاوند اس عورت کو بغیر کسی منصوبہ بندی کے طلاق دیدے۔پس آپ کی بیان کردہ صورت میں اب ان میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوئی گنجائش نہیں، جب تک کہ ان کے درمیان حَتَّي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ والی شرط پوری نہ ہو۔(قسط نمبر 12، الفضل انٹر نیشنل 2 اپریل 2021ء صفحہ 11) 371