بنیادی مسائل کے جوابات — Page 346
شادی بیاه سوال: لجنہ اماء اللہ ہالینڈ کی 22 اگست 2020 ء کی Virtual ملاقات میں ایک ممبر لجنہ نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ستار ہے۔اور بچوں کے رشتے کرتے وقت جب ہم لڑکا لڑکی یا ان کے خاندان کے بارہ میں تحقیق کرواتے ہیں تو کیا یہ ٹھیک ہے؟ اس پر حضور انور نے فرمایا: جواب : اللہ تعالیٰ ستار تو ہے اور اللہ تعالیٰ ستاری کو پسند کرتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے عیب اگر کسی کو پتہ لگ جائیں تو وہ لوگوں کو بتانے نہیں چاہئیں اور پردہ پوشی کرنی چاہیئے۔لیکن رشتہ کے بارہ میں قرآن کریم کا یہ بھی حکم ہے کہ قول سدید سے کام لو۔جو بھی رشتہ ہے، لڑکے اور لڑکی میں جو بھی نقص ہیں، باتیں ہیں ان کا ایک دوسرے کو پتہ لگنا چاہیئے۔بالکل سچائی سے کام لو، کوئی ایسی پیچ نہ ہو تا کہ بعد میں رشتہ میں دراڑیں نہ پڑیں۔اس لئے ہر بات کھل کے بتا دینی چاہیئے۔رشتہ کا معاملہ بڑا Sensitive معاملہ ہے۔بعد میں لڑائیاں ہوتی ہیں، باتیں ہوتی ہیں کہ ہمیں یہ نہیں بتایا، وہ نہیں بتایا۔تو اس لئے بہتر ہے کہ رشتہ کرتے ہوئے یہ ساری باتیں بتاؤ اور قرآن کریم کی نکاح کی آیات جو ہیں ان میں اسی لئے قولِ سدید کے بارہ میں زور دیا گیا ہے۔ستاری کا ایک حکم اپنی جگہ ہے وہ یہ ہے کہ تم نے کسی کے عیب ظاہر نہیں کرنے۔تم جو رشتہ بتا رہے ہو تو یہ بتا دو کہ یہ رشتہ ہے۔باقی اگر آپ کو اس کے بارہ میں کوئی کمزوری کا پتہ بھی ہے، جس کارشتہ تجویز کر رہے ہیں تو یہ بتا دیں کہ یہ رشتہ ہے تم لوگ خود ہی آپس میں بیٹھو، ملو، دیکھو، دعا کرو اور پھر فیصلہ کرو۔اگر آپ نے ستاری کرنی ہے تو یہ ہے۔نہ یہ ہے کہ رشتہ بتانے سے پہلے آپ اس کو یہ کہہ دیں کہ اس میں تو یہ نقص ہے، یہ نقص ہے، یہ نقص ہے اور اس کا رشتہ ہی نہ ہو۔کہہ دیں یہ رشتہ ہے، تجویز ہے۔اس میں اچھائیاں کیا ہیں، برائیاں کیا ہیں؟ یہ تم لوگ خود مل کے بیٹھ کے دیکھو اور اگر تم لوگوں کو پسند آتا ہے تو کر لو، پھر دعا کر کے فیصلہ کرو۔اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے۔اور غیب کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے کہ کونسا رشتہ کس کے لئے بہتر ہے۔اس لئے دعا کر کے فیصلہ کرنا چاہیئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے 346