بنیادی مسائل کے جوابات — Page 330
کوششوں سے روز بروز نئی نئی تحقیقات سامنے آتی رہتی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات اور اس کے احکامات کے نئے نئے پہلو اور حکمتیں بھی ہر زمانہ میں کھلتی رہتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ (سورة الحجر: 22) یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں۔لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بات بھی سمجھا دی کہ قرآن کریم چونکہ ایک دائمی کلام ہے اور اس میں قیامت تک کے لئے انسانوں کی فلاح، ہدایت اور رہنمائی کے لئے تعلیمات موجود ہیں، جن کا ہر زمانہ میں حسب ضرورت استخراج ہو تا رہے گا۔اس لئے ضروری نہیں کہ ایک وقت میں اس کی ساری باتیں کسی انسان کو سمجھ آجائیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک کامل کتاب ہے جو نوع انسانی کو دی گئی ہے اور ہمیشہ کے لئے ان کی رہنمائی کرے گی۔کبھی ایسا نہیں ہو گا کہ انہیں قرآن کے علاوہ کسی اور ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت پیش آئے۔قرآن کریم نے آئندہ کی خبریں دی ہیں اور ہر صدی کے متعلق قرآن کریم میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جو اپنے وقتوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔۔۔اس کامل کتاب کے نزول پر اب قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔اس کا ماضی بھی عملاً یہ بتاتا ہے کہ مستقبل میں بھی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ سے انسان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا کہ نئی سے نئی باتیں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ظہور میں آئیں گی اور پیشگوئیاں پوری ہوں گی، جب نئے مسائل پیدا ہوں گے قرآن کریم کی نئی تفسیر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھائے گا، اپنے مقربین اور اپنے محبوب بندوں کو اور پھر وہ 330