بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 177

سوال: اردن سے ایک دوست نے سورۃ الرحمن کی آیت لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جان کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے دریافت کیا کہ یہاں جن سے کیا مراد ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 18 اکتوبر 2021ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم میں جن کا لفظ کثرت کے ساتھ اور مختلف معنوں میں بیان ہوا ہے۔اور ہر جگہ سیاق و سباق کے اعتبار سے اس لفظ کے معانی ہوں گے۔جن کے بنیادی معنی مخفی رہنے والی چیز کے ہیں۔جو خواہ اپنی بناوٹ کی وجہ سے مخفی ہو یا اپنی عادات کے ر مخفی ہو اور یہ لفظ مختلف صیغوں اور مشتقات میں منتقل ہو کر بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ان سب معنوں میں مخفی اور پس پردہ رہنے کا مفہوم مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔طور پر چنانچہ جن والے مادہ سے بننے والے مختلف الفاظ مثلاً جن سایہ کرنے اور اندھیرے کا پردہ ڈالنے، جنین ماں کے پیٹ میں مخفی بچہ ، جنون وہ مرض جو عقل کو ڈھانک دے، جنان سینہ کے اندر چھپادل، جَنَّة باغ جس کے درختوں کے گھنے سائے زمین کو ڈھانپ دیں، مَجنَّة ڈھال جس کے پیچھے لڑنے والا اپنے آپ کو چھپالے، جان سانپ جو زمین میں چھپ کر رہتا ہو، جنن قبر جو مردے کو اپنے اندر چھپالے اور جُنَّة اوڑھنی جو سر اور بدن کو ڈھانپ لے کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔پھر جن کا لفظ با پر وہ عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔نیز ایسے بڑے بڑے رؤسا اور اکابر لوگوں کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو عوام الناس سے اختلاط نہیں رکھتے۔نیز ایسی قوموں کے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے دور دراز کے علاقوں میں رہتے اور دنیا کے دوسرے حصوں سے کٹے ہوئے ہیں۔اسی طرح تاریکی میں رہنے والے جانوروں اور بہت باریک کیڑوں مکوڑوں اور جراثیم کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔اسی لئے حضور ام نے رات کو اپنے کھانے پینے کے برتنوں کو 177