بنیادی مسائل کے جوابات — Page 129
سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے قرآنی آیت وَإِذَا تَوَلَّي سَعْيِ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَ يُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَ اللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۔یعنی جب وہ صاحب اختیار ہو جائے تو زمین میں دوڑا پھر تا ہے تاکہ اس میں فساد کرے اور فصل اور نسل کو ہلاک کرے جبکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔(البقرة: 206 ) سے حرث و نسل کی تباہی سے مراد DNA اور RNA میں چھیڑ چھاڑ کرنے کے نتیجہ میں انسانوں میں ہونے والی جسمانی، ذہنی اور ایمانی تبدیلی کی کوشش کے معانی اخذ کر کے اس بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ لعزیز سے رہنمائی چاہی۔جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 نومبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق قرآن کریم قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے نازل کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَإِنْ مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةٌ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (سورة الحجر:22) یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے (غیر محدود) خزانے ہیں۔لیکن ہم اسے (ہر زمانہ میں اس کی ضرورت کے مطابق ایک معین اندازہ کے مطابق نازل کرتے ہیں۔سائنسی نقطہ نظر سے آپ نے اس آیت کے جو معانی بیان کئے ہیں، وہ ٹھیک ہیں۔ان میں کوئی حرج کی بات نہیں۔DNA میں چھیڑ چھاڑ کے نتیجہ میں انسانی تباہی کے مضمون کو حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی بعض مواقع پر بیان فرمایا ہے۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف ”الہام، عقل، علم اور سچائی “ میں بھی جینیاتی انجنیئر نگ کے عنوان کے تحت انسانی تخلیق میں اس قسم کی منفی چھیڑ چھاڑ کی کوشش کے بارہ میں دنیا کے سائنسدانوں اور حکومتوں کو انتباہ فرمایا ہے۔اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الاؤل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے اپنے وقتوں میں اس آیت کی جو نہایت 129