بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 130

بصیرت افروز تفاسیر فرمائی ہوئی ہیں، ان میں بھی اس قسم کی منفی انسانی تدابیر اختیار کرنے کے بارہ میں انذار فرمایا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں بادشاہت مل جاتی ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طاقتوں سے کام لے کر حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ رعایا اور ملک کی خدمت کریں بجائے اس کے کہ لوگوں کے دلوں میں سکینت اور اطمینان پیدا کریں وہ ایسی تدابیر اختیار کرنی شروع کر دیتے ہیں جن سے قومیں قوموں سے، قبیلے قبیلوں سے اور ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذہب کے ماننے والوں سے لڑنے جھگڑنے لگ جاتے ہیں اور ملک میں طوائف الملوکی کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح وہ ایسے طریق اختیار کرتے ہیں جن سے ملک کی تمدنی اور اخلاقی حالت تباہ ہو جاتی ہے اور آئندہ نسلیں بیکار ہو جاتی ہیں۔حرث کے لغوی معنے تو کھیتی کے ہیں مگر یہاں حرث کا لفظ استعارہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ جتنے ذرائع ملک کی تمدنی حالت کو بہتر بنانے والے ہوتے ہیں ان ذرائع کو اختیار کرنے کی بجائے وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے تمدن تباہ ہو۔اقتصاد برباد ہو۔مالی حالت میں ترقی نہ ہو۔اس طرح وہ نسل انسانی کی ترقی پر تبر رکھ دیتے ہیں۔اور ایسے قوانین بناتے ہیں جن سے آئندہ پیدا ہونے والی نسلیں اپنی طاقتوں کو کھو بیٹھتی ہیں۔اور ایسی تعلیمات جن کو سیکھ کر وہ ترقی کر سکتی ہیں ان سے محروم ہو جاتی ہیں۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 453،454) اسی طرح حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے خطبات جمعہ مؤرخہ 28 جولائی 1972ء اور 11 اگست 1972ء میں سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 206 کی تشریح میں انسان کو عطا ہونے والی خداداد استعدادوں اور طاقتوں کے غلط اور مفسدانہ استعمال کو نوع انسانی کے لئے مضر 130