بنیادی مسائل کے جوابات — Page 121
سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ قرآن کریم کے نصف میں جو وَلْيَتَلَطَّف کا لفظ آیا ہے، اس لفظ کے قرآن کریم کے درمیان میں آنے میں کچھ خاص حکمت ہے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 12 فروری 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو آیات اور سورتوں کی شکل میں نازل فرمایا اور آنحضور اللیم نے خدا تعالیٰ سے رہنمائی پاکر اس کی موجودہ ترتیب کو قائم فرمایا ہے۔آنحضور امیم کے بعد مختلف وقتوں میں کئی طرح سے جو قرآن کریم کی تقسیم کی گئی ہے، یہ ذوقی باتیں ہیں۔اس سے قرآن کریم میں پائی جانے والی دائمی تعلیمات اور اس کے عمیق در عمیق روحانی معارف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔قرآنی تعلیمات کا بنیادی مقصد خدا تعالیٰ کی توحید کا پرچار ہے۔اس اعتبار سے جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ قرآن کریم کی ابتدا میں بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کے مضمون کو بیان کیا گیا اور قرآن کریم کا اختتام بھی اسی توحید باری تعالیٰ کے مضمون پر ہو رہا ہے اور قرآن کریم کے درمیان میں جو سورۃ آئی ہے یعنی سورۃ الکہف وہ بھی خاص طور پر توحید کے ہی مضمون پر مشتمل ہے اور پھر خود اس سورۃ کا آغاز اور اختتام بھی توحید ا ہی کے مضمون پر ہوتا ہے۔پس قرآن کریم کی اس ترتیب میں یہ حکمت نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ توحید کی تعلیم کو بیان فرما کر انسان کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس کی کامیابی کا راز اسی میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر اس عارضی زندگی کو گزارے تا کہ اُخروی اور دائمی زندگی میں وہ خدا تعالیٰ کے لا متناہی فضلوں کا وارث بن سکے۔(قسط نمبر 32 الفضل انٹر نیشنل 22 اپریل 2022ء صفحہ 11) 121