بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 105

تربیت سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل عاملہ لجنہ اماء اللہ کینیڈا کی Virtual ملاقات مؤرخہ 16 اگست 2020ء میں تربیت کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ممبران عاملہ کو توجہ دلاتے ہوئے درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: ماؤں کے ذریعہ تربیت کریں کہ جو آج کل کی یہاں بچیاں پڑھ رہی ہیں ان کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ ہونے چاہئیں۔اور ان کا یہاں جو باہر نکل کے، یونیور سیٹیز میں جاکے، کالجز میں جا کے Exposure ہے اس کے ساتھ اگر مائیں پوری طرح تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو پھر وہ آپ لوگوں سے مدد لیں۔لیکن اس کے باوجود لڑکیوں کے ساتھ تعلق رکھیں۔اور لڑکیوں کی تربیت یہ کریں کہ وہ جیسی مرضی تعلیم حاصل کریں لیکن جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد ہے، اس کو سامنے رکھیں کہ وہ کیا ہے ؟ صرف دنیا میں ہی نہ پڑ جائیں۔یہاں ان کو یہ بھی Realize کروانا چاہیے کہ یہاں آ کے اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی لحاظ سے فضل کئے ہیں ان دنیاوی فضلوں پر اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا صحیح اظہار یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دین سے Attach ہو ا جائے۔یہ اکثر لڑکوں میں بھی ہوتا ہے اس لئے پھر ماؤں کی تربیت اس لحاظ سے بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ پندرہ سال تک یا کم از کم تیرہ چودہ سال تک لڑکے بھی ماؤں ہی کے زیر اثر ہوتے ہیں (اس لئے مائیں لڑکوں کی بھی اس حوالہ سے تربیت کریں)۔پھر ماؤں کی تربیت کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ یہ جو مردوں کی تربیت کی ذمہ داری یہ بھی آپ لوگوں نے ہی کرنی ہے۔مردوں میں بھی تربیت میں کمی ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جیسا مرضی کام کرتے رہیں اور عورتیں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ان کی بھی ذمہ داری ہے۔لیکن آپ لوگوں نے تربیت کے لحاظ سے اس چیلنج کو بھی لینا ہے کہ لڑکوں میں ، چھوٹی عمر کے اطفال جو ہیں ان کی بھی تربیت ایسے کریں کہ جب وہ خدام میں شامل ہوں تو وہ جماعت سے Attach ہوں۔اسی طرح بچیاں جب ناصرات سے لجنہ میں آئیں تو وہ جماعت سے Attach ہوں۔یہاں کے ماحول کا جو اثر ہے، کیونکہ کھلی تعلیم دی جاتی ہے اور بعض کھلے سوال کئے جاتے ہیں۔اس پر آپ لوگوں نے ان کو کھل کے جواب 105