بنیادی مسائل کے جوابات — Page 62
ہے اور لغت والوں کی بات اس مسئلہ میں زیادہ قابل اعتبار ہے۔مگر اس کے باوجود میرے نزدیک سور کی شخم یعنی چربی جائز نہیں۔اور اس کی دلیل میرے پاس یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مردہ جانور کی چربی حرام ہے۔اور سؤر کی حرمت اور مردہ کی حرمت ایک ہی آیت میں اور ایک ہی الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔پس دونوں کا حکم ایک قسم کا سمجھا جائے گا۔لیکن سؤر کی جلد کا استعمال جائز ہو گا کیونکہ وہ کھائی نہیں جاتی۔“ (تفسیر کبیر جلد چہارم، تفسیر سورۃ النحل صفحہ 260) اسی طرح اس سوال کہ ٹوتھ برش کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ، یہ برش اکثر سور کے بالوں سے بنائے جاتے ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”ہماری تحقیقات تو یہ ہے کہ سب کے سب برش سؤر کے بالوں کے نہیں ہوتے۔باقی رہا سور کے بالوں کا استعمال۔یہ شرعی لحاظ سے جائز ہے۔کیونکہ سور کا گوشت حرام کیا گیا جو کھانے کی چیز ہے۔اور بال کوئی کھاتا نہیں۔ایک بڑے بزرگ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ سور کی چربی بھی جائز ہے کیونکہ سور کا لحم حرام کیا گیا ہے نہ کہ چربی۔دوسرے فقہاء نے کہا ہے۔یہ فتویٰ دینے والے کی بزرگی میں تو کلام نہیں مگر اُن کا یہ استدلال غلط ہے۔ان کو زبان کے لحاظ سے غلطی لگی ہے۔کیونکہ چربی لحم میں شامل ہوتی ہے۔انہوں نے علیحدہ سمجھی ہے۔“ ( اخبار الفضل قادیان دار الامان نمبر 5 جلد 16 ، مؤرخہ 17 جولائی 1928ء صفحہ 7) یہودی مذہب میں بھی سؤر کی افزائش اور اس کا کھانا حرام ہے لیکن انسانی جان بچانا چونکہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے اس لئے عصر حاضر کے یہودی علماء کے نزدیک سور سے دل کا حصول یہودی ضوابط خوراک کی کسی بھی طرح خلاف ورزی نہیں ہے۔اسی طرح عصر حاضر کے بعض مسلمان علماء نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے کہ اگر مریض کی زندگی ختم ہونے ، اس کے کسی عضو کی ناکامی، مرض کے پھیلنے اور شدید تر ہونے، یا جسم کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو سور کے دل کے Valve انسان کو لگائے جاسکتے ہیں۔(قسط نمبر 33، الفضل انٹر نیشنل 06 مئی 2022ء صفحہ 9) 62