بُخارِ دل — Page 227
227 بنده تجھ کو مالک نے جو تھا پیدا کیا تاکہ بندہ اُس کا تو بن کر رہے پس تجھے کھانے کو جو دے۔کھا اُسے اور جو پہنائے تجھ کو، پہن لے کام جو ذمے ہیں تیرے، کر انہیں تھک گیا جب۔حکم ہے۔آرام لے تو غلام ابن غلام ابن غلام کام کیا مرضی سے اپنی پھر تجھے؟ گر تو بندہ ہے تو بندہ بن کے رہ ورنہ دعوی بندگی کا چھوڑ دے نفع تیرا بھی اسی میں ہے کہ تو عبد بن کر فائدے حاصل کرے اس غلامی میں ہیں سب آزادیں سخت دُکھ میں ہے جو بھاگے قید سے الفضل 13 فروری 1944ء) جمعہ کا دن (28 ماه صلح 1323 ش) مصلح موعود نے دعوی کیا جمعہ کے دن اور جماعت نے بھی امنا کہا جمعہ کے دن تھا میں صلح کا تاریخ اٹھائیسویں (28) جب حریفوں کا سبھی جھگڑا مٹا جمعہ کے دن جن کے دل میں تھی ابھی باقی ذراسی بھی خلش شک وشبہ اُن کا سب جاتا رہا جمعہ کے دن سر مرا کھاتے تھے پیغامی کے دعوی ہے کہاں؟ اب تو اُن کاغذ ربھی جاتا رہا جمعہ کے دن 1 28 جنوری 1943ء 2 زمانہ حضرت مسیح موعود